روس اور یوکرین

روسی صدر یوکرینی اناج کی ترسیل دوبارہ شروع کرنے کے لیے بات چیت پرآمادہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

روسی صدرولادی میرپوتین نے ہفتے کے روز فرانس اور جرمنی کے رہ نماؤں سے ٹیلی فون پر بات چیت کی ہے اور انھیں بتایا ہے کہ روس یوکرین کے لیے بحیرۂ اسود کی بندرگاہوں سے اناج کی ترسیل دوبارہ شروع کرنے کے طریقوں پرتبادلہ خیال پرآمادہ ہے۔

عالمی سطح پر گندم مہیا کرنے میں روس اور یوکرین کا حصہ قریباًایک تہائی ہے۔روس کھاد بھی برآمد کرنے والا ایک اہم ملک ہے اور یوکرین مکئی اور سورج مکھی کے تیل کا بڑا برآمد کنندہ ہے۔

کریملن نے ایک بیان میں کہاکہ روس اپنے طورپر بحیرۂ اسود کی بندرگاہوں سے یوکرینی اناج کی برآمد سمیت اناج کی بلا روک ٹوک ترسیل کے امکانات کی تلاش میں مدد دینے کوتیار ہے۔

بیان کے مطابق صدرپوتین نے فرانسیسی صدرعمانوایل ماکرون اور جرمن چانسلراولف شُلز کو آگاہ کیا کہ اگر روس کے خلاف پابندیاں ختم کر دی جاتی ہیں تووہ کھادوں اور زرعی اجناس کی برآمد میں اضافہ کرنے کو تیار ہے- یہ مطالبہ انھوں نے حالیہ دنوں میں اطالوی اور آسٹروی رہنماؤں کے ساتھ بات چیت میں بھی کیا تھا۔

یوکرین اور مغربی ممالک نے روس پرالزام لگایا ہے کہ وہ کیف پرحملے سے پیدا ہونے والے غذائی بحران کوہتھیار کے طورپراستعمال کررہا ہے جس سے اناج، کھانا پکانے کے تیل، ایندھن اور کھاد کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے۔

روس نے اس صورت حال کا ذمہ داراپنے خلاف مغربی پابندیوں اور یوکرینی بندرگاہوں پربارودی سرنگوں کی تنصیب کو قرار دیا ہے۔کریملن کے مطابق صدر پوتین نے یہ بھی کہا کہ روس یوکرین کے ساتھ مذاکرات دوبارہ شروع کرنے پر آمادہ ہے۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ٹیلی فون پر بات چیت میں کیف کی وجہ سے منجمد شدہ مذاکرات پر خصوصی توجہ مرکوز کی گئی تھی اورصدرولادی میرپوتین نے بات چیت دوبارہ شروع کرنے کے لیے روس کے کھلے پن کی تصدیق کی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں