صدر عون کی رخصتی سے قبل شامی تاجروں کو لبنانی شہریت کی پیشکش

’یہ پیشکش لبنان میں موجود عراقی کاروباری شخصیات اور بیرون ملک شامیوں کے لیے بھی ہے‘

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

لبنان کے صدر میشل عون کی مدت صدارت ختم ہونے سے پانچ ماہ قبل انکشاف ہوا ہے کہ لبنانی حکومت ملک میں موجود شامی کاروباری شخصیات کو لبنان کی شہریت کے حصول کی پیش کش پر کام کررہی ہے۔ لبنانی ایوان صدر سے لیک ہونے والی معلومات سے پتا چلا ہے کہ صدر میشل عون ایک ایسےصدارتی فرمان کی تیاری پر کام کررہے ہیں جس میں لبنان میں موجود اور بیرون ملک شامی کاروباری شخصیات کو لبنان کی شہریت حاصل کرنے کی پیشکش کرنا ہے۔ یہ آفر لبنان میں موجود عراقی کاروباری شخصیات کے لیے بھی ہے۔

معاصر اخبار ’الشرق الاوسط‘ نے رپورٹ کیا ہے کہ اس حکم نامے سے ممکنہ طور پر مستفید ہونے والوں میں شامی اور عراقی تاجر بھی شامل ہوں گے۔ الشرق الاوسط کو باخبر ذرائع سے معلوم ہوا کہ شام کےدولت مند لوگوں کو اپنی دولت بیروت منتقل کرنے کے بدلے میں انہیں لبنانی پاسپورٹ جاری کیا جائے گا۔

ذرائع نےبتایا کہ کلیئرنگ ٹرانزیکشنز کے دفاتر اب ’شہریت‘ کےصدارتی فرمان کے لیے درکار دستاویزات کو مکمل کرنے پر کام کر رہے ہیں۔اس پیش کش میں لبنان میں موجود شامی کاروباری شخصیات کے ساتھ ساتھ عراقی دولت مند بھی شامل ہیں۔ ان میں وہ کاروباری شخصیات بھی شامل ہیں جو لبنان کی شہریت حاصل کرنے کی خواہش مند ہیں اور انہوں نے اس مقصد کے لیے لبنانی حکومت کو درخواست دی تھی۔

اخبار نے مزید کہا کہ درجنوں شامی متمول حضرات لبنانی پاسپورٹ حاصل کرنے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ وہ اس لیے بھی ایسا چاہتےہیں کیونکہ شامی شہری ہونے کی وجہ سے ان پر نقل وحرکت کی پابندیاں عاید ہیں۔ لبنانی شہریت ملنے کے بعد وہ سفر کی آزادی حاصل کرسکتے ہیں۔ ان میں ایسے افراد بھی موجود ہیں جو شامی حکومت کے قریب سمجھے جانے کی وجہ سے امریکا اور عالمی پابندیوں کی فہرست میں شامل ہیں۔ اگرانہیں لبنان کی شہریت حاصل ہوجاتی ہے تو اس صورت میں ان کی بیرون ملک پھنسی دولت انہیں واپس لینے کا موقع مل سکتا ہے۔

لبنان میں جمہوریہ کے صدر کے عہدے کی مدت ختم ہونےسے قبل شامیوں کو لبنانی شہریت دینے سے متعلق فرمان کی منظوری دیے جانے کا قوی امکان ہے۔ رپورٹ کے مطابق اس حکم نامے میں تقریباً 200 افراد کو شامل کیا گیا، جن میں سے زیادہ تر بشار الاسد کی حکومت کے قریبی شامی شخصیات شامل ہیں اور ان میں سے کچھ امریکی پابندیوں کی فہرست میں شامل ہیں۔

اس مسئلے کی سنجیدگی پر زور دینے اور اس پر عمل درآمد کی رفتار تیز کرنے کے حوالے سے ذرائع نے اخبار’الشرق الاوسط‘ کو بتایا کہ صدر میشل عون اور ان کی ٹیم کے لیے غیرملکیوں کو شہریت کے حکم نامے کی منظوری ترجیح نہیں ہے۔ صدر کی توجہ معاشی مالیاتی بحران کے حل کے لیے اقدامات اور معاشی اصلاحات پر مرکوز ہے۔ تاہم ذرائع نے الشراق الاوسط کو بتایا کہ "اہل افراد کی طرف سے شہریت کے حصول کے لیے درخواستیں جمع کرائی گئی ہیں، جن میں سے کچھ انسانی بنیادوں پرلبنان کی شہریت دی جا رہی ہے۔ ان میں ایسے شامی شامل ہیں جنہوں نے لبنانی خواتین سے شادیاں کررکھی ہیں۔

ذریعے نے بتایا کہ صدرعون کے پاس مستحق درخواست گذاروں کو شہریت دینے کا آئینی حق ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہر مدت کے آخری سال میں جمہوریہ کے صدر شہریت کے حصول کا حکم نامہ جاری کرتے رہے ہیں جو ان کا آئینی حق ہے۔ سابق صدر مائیکل سلیمان نے 7,000 لوگوں کولبنان کی شہریت دی اور صدر الیاس ہراوی نے تین لاکھ غیرملکیوں کو لبنان کی شہریت دی۔ ان سے قبل صدر امین جمیل اور دیگر صدور نے بھی ایسا ہی کیا تھا۔

اگرچہ وزارت داخلہ اسی طرح کے کسی بھی حکم نامے کے نفاذ کو یقینی بنانے کی پابند ہوتی ہے مگر ابھی تک سرکاری سطح پر اس خبر پر کوئی رد عمل سامنے نہیں آیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں