طلبا کے متنازع ’ڈریس کوڈ‘ پر سوڈانی یونیورسٹی کو تنقید کا سامنا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

سوڈان کی ایک بڑی یونیورسٹی کی طرف سے طلبا کے ڈریس کوڈ اور متنازع یونیفارم کی وجہ سے عوامی اور سماجی حلقوں کی طرف سے تنقید کا سامنا ہے۔ نئے ’ڈریس کوڈ‘ میں کئی ممانعتیں شامل ہیں جس پر سوشل میڈیا پر یونیورسٹی پر تنقید کی جا رہی ہے۔

مشرقی سوڈان میں واقع یونیورسٹی آف کسلا نے کیمپس کے اندر طلبا اور طالبات کے یونیفارم کے لیے ضابطوں کا اعلان کیا۔ ان نئے ضابطوں میں طلبہ کے لیے "شرٹ" پہننے پر پابندی، "غیر مناسب اختلاط" کی روک تھام اور طلبا اور طالبات کے تنہائی میں بیٹھنے پابندی عاید کردی گئی ہے۔

اسی طرح طالبات کو سر اور جسم ڈھانپنے کا بھی پابند کیا گیا۔ ڈریس کوڈ میں طالبات کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ تنگ اور چست لباس نہ پہنیں۔ طالبات کو آرائش اور "میک اپ" سے بھی روک دیا گیا ہے۔ یو نیورسٹی کا کہنا ہے کہ نئے کوڈ کی خلاف ورزی پر طلبا کو تادیبی کارروائی کا سامنا کرنا پڑے گا۔

مذہبی جنونیت کے دور کی یاد تازہ

سوڈان میں ایک درس گاہ کی جانب سے طلبا اور طالبات کے لیے نئے ضابطے نے ملک میں گذرے مذہبی دور کی یاد تازہ کردی ہے۔ گذشتہ ادوار کے دوران خواتین کی تذلیل کی جاتی تھی اور انہیں عوامی ذوق کے خلاف یا غیر مہذب لباس پہننے پر قدغنوں کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔

ممتاز صحافی شمائل النور نے "العربیہ ڈاٹ نیٹ" کو بتایا کہ مذکورہ بالا ضابطے مضبوط اشارے اور واضح ثبوت پیش کرتے ہیں کہ اسلام پسند حکومت نے ریاست کے جوڑوں میں اپنی کھوئی ہوئی پوزیشن دوبارہ حاصل کرنا شروع کر دی ہے۔ شمائل نے کہا کہ سابق حکومت نے اپنے وجود کو ظاہر کرنے کے لیے اپنے نظریے کو ذاتی آزادیوں میں دوبارہ دخل اندازی کی کوششیں شروع کر دی ہیں۔ اس طرح کی پابندیاں شہری آزادیوں کے منافی ہیں۔

دوسری جانب کسالا یونیورسٹی نے اپنے متنازعہ فیصلے کا سختی سے دفاع کیا ہے۔ یونیورسٹی کے ایک سینیر ذریعے نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر ’العربیہ ڈاٹ نیٹ‘ کو بتایا کہ یہ ضوابط نئے نہیں ہیں اور نہ ہی اس لمحے کا نتیجہ ہیں۔ عہدیدار نے ناقدین کی طرف سے اسلام پسندوں کی سوچ کی واپسی کو مسترد کر دیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں