ایران جوہری معاہدہ

اسرائیل کاایران پرجوہری تحقیقات سے بچنے کےلیے آئی اے ای اےکی دستاویزات چُرانے کاالزام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

اسرائیلی وزیراعظم نفتالی بینیٹ نے ایران پرالزام عاید کیا ہے کہ اس نے اپنے جوہری پروگرام کی جانچ پڑتال کوروکنے کے منصوبے کے تحت اقوام متحدہ کے جوہری نگران ادارے کی داخلی رپورٹیں چوری کی ہیں۔

تہران اورویانا میں قائم بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) دونوں نے اس الزام کے بارے میں تبصرے کی درخواستوں کا فوری طور پرجواب نہیں دیا۔بظاہریہ الزام بڑی طاقتوں کو 2015ءمیں ایران سے طے شدہ جوہری معاہدے کی تجدید سے روکنے کی اسرائیلی مہم کا حصہ دکھائی دیتا ہے۔

نفتالی بینیٹ نے سوشل میڈیاپرایک پوسٹ میں کہا ہے کہ ’’ایران نے آئی اے ای اے کی دستاویزات چوری کی ہیں اوران کی معلومات کو منظم طریقے سے جوہری تحقیقات سے بچنے کے لیے استعمال کیا ہے‘‘۔

بینیٹ کی اس پوسٹ کے ساتھ مبیّنہ چوری شدہ فائلوں کا انتخاب بھی شامل تھا،ان میں سے کچھ کا انگریزی میں ترجمہ کیا گیا تھا۔انھوں نے لکھا:’’ہم یہ سب کیسے جانتے ہیں؟ کیونکہ ہم نے ایران کے دھوکادہی کے منصوبے پر ہاتھ ڈال دیا ہے‘‘۔

بینیٹ کے ایک معاون نے کہا کہ اس دعوے میں 2018ءمیں اسرائیلی جاسوسوں کی اشاعت کا حوالہ دیا گیا تھا ۔اس کے بارے میں انھوں نے کہا تھا کہ ایران میں ضبط کی گئی دستاویزات کا ایک خفیہ ذخیرہ موجود ہے اور یہ اس کے جوہری منصوبوں سے متعلق ہے۔ تہران نے اس نام نہاد ’’جوہری آرکائیو‘‘کوخودتراشیدہ قراردیا تھا۔

بینیٹ نے مبیّنہ دستاویزات میں ایک ایرانی دفاعی عہدے دار کے حوالے سے لکھا ہے کہ ’’جلدیابدیر وہ (آئی اے ای اے) ہم سے پوچھیں گے اور ہمیں ان کے لیے ایک جامع کور اسٹوری کی ضرورت ہوگی‘‘۔

ایران کا کہنا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پرامن مقاصد کے لیے ہے جبکہ اسرائیل، امریکا اور آئی اے ای اے طویل عرصے سے واضح کرچکے ہیں کہ ان کے خیال میں ایران کے پاس 2003 تک جوہری ہتھیاروں کا مربوط پروگرام تھا۔

آئی اے ای اے نے ایران کی ماضی کی سرگرمیوں کی تحقیقات میں ایک دہائی سے زیادہ عرصہ گزارہ تھااور اب وہ تین غیرعلانیہ مقامات سے ملنے والے یورینیم کے ذرّات کی ابتدا کے بارے میں ایران سے ایک بار پھرپوچھ تاچھ کر رہا ہے۔

امریکا اور پانچ دیگرطاقتوں نے ایران کے ساتھ 2015 کے معاہدے کی تجدید کے لیے ویانا میں گذشتہ ایک سال کے دوران میں بات چیت کے متعدد ادوار کیے ہیں لیکن امریکا اور ایران کے درمیان بعض متنازع امور طے نہ ہونےکی وجہ سے یہ مذاکرات اب تعطل کا شکار ہوچکے ہیں۔

اسرائیل ان مذاکرات کا فریق نہیں لیکن غیرملکی طاقتوں پر اس کا کچھ غلبہ ہے۔اسرائیلی وزیرخارجہ یائرلاپیڈ نے تل ابیب ریڈیواسٹیشن ایف ایم 103 سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’’ہم کَہ رہے ہیں،یہ کوئی اچھا معاہدہ نہیں اوراگر اس پر دست خط نہیں بھی کیے جاتے تو کوئی تباہی نہیں آئے گی‘‘۔

سابق امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ مئی 2018ء میں اس جوہری معاہدے سے یک طرفہ طور پر دستبردار ہوگئے تھے۔انھوں نے کہا تھا کہ یہ ایران کو جوہری سرگرمیوں سے بازرکھنے میں ناکام رہا ہے۔انھوں نے اس کے بعد ایران کے خلاف سخت اقتصادی پابندیاں عاید کردی تھیں اور اب ایران ان پابندیوں کے خاتمے کا مطالبہ کررہا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں