’بیٹی سے وعدہ کیا تھا کہ امتحان کے بعد اسے سیر کرانے لے جاؤں گا‘

المناک ٹریفک حادثے میں فوت سعودی بچی کے والد کے درد بھرے تاثرات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

سعودی عرب میں ایک المناک ٹریفک حادثے میں فوت ہونے والی بچی لارا کو سپرد خاک کرنے کے بعد اس کی والد عاطف العنزی نے حادثے کے بارے میں العربیہ ڈاٹ نیٹ سے تفصیلی بات کی۔

انہوں نے بتایا کہ میں قریات کے سفر پر تھا مگر بیٹی سے میں مسلسل رابطے میں رہا۔ میں نے لارا سے وعدہ کیا تھا کہ امتحانات کے بعد ہونے والی تعطیلات میں اسے سیر کرانے لے جاؤں گا۔

العنزی نے بتایا کہ لارا کو گھروالے اور پڑوسی بہت پسند کرتے تھے۔ اس کی والدہ اسے گھر پر رکھنا چاہتی تھیں مگروہ گھر سے اسکول چلی گئیں۔ لارا کو پڑھنے کا بہت شوق تھا اور وہ امتیازی نمبروں سے پاس ہونے کے لیے وہ اسکول جانے پر مصر رہتی تھیں۔

انہوں نے کہا کہ لارا کے کام اوراس کی پڑھائی سے لگن پر اسے ہرایک بہت پسند کرتا۔

عنزی نے بتایا کہ بیٹی اسکول بس پر گھر واپس آرہی تھی جب بس حادثے کا شکار ہوئی جس میں اس کی بیٹی کی جان چلی گئی۔ میں نے حادثے کے ذمہ داروں سے کوئی انتقام یا معاوضہ نہیں لیا اور انہیں چھوڑ دیا۔

عنزی کا کہنا ہے کہ بچی کی تدفین سے کچھ دیر قبل میں اسپتال میں زخمی بس ڈرائیور سے ملنے گیا۔ ڈرائیور نے مجھے حادثے کی کہانی سنانا شروع کی کہ بس کی رفتار تیز نہیں تھی وغیرہ، مگرمیں نے اسے ٹوک دیا اور کہا میں اسے یہاں حادثے کے اسباب معلوم کرنے نہیں آیا بلکہ میں اسے معاف کرنے اور اس کے خلاف کیس واپس لینے کے لیے آیا ہوں۔ میں نے بغیر کسی معاوضے کے عرب شہریت رکھنے والے ڈرائیور کی رہائی کی حمایت کی۔

العنزی نے مزید کہا کہ میں نے حادثے کا باعث بننے والی دوسری گاڑی کی خاتون ڈرائیور کو بھی معاف کردیا تاکہ دنیا سے چلی جانے والی میری بیٹی کےلیے اجر کا باعث بنے۔

دوسری طرف سوشل میڈیا پر #Lara_Atef_Al-Anzi ہیش ٹیگ ٹرینڈ کرتا رہا۔ اس ٹیگ سے شہریوں نے لارا کے حادثے پر صدمے کا اظہار کرنے کے ساتھ لواحقین کو صبر کی ترغیب دی۔

قابل ذکر ہے کہ تبوک کی البوادی کالونی میں گذشتہ ہفتے ایک حادثہ پیش آیا تھا جس میں طالبات کی بس ایک کار سے ٹکرا گئی تھی جس کے نتیجے میں چوتھی جماعت کی طالبہ لارا جاں بحق اور بارہ بچے زخمی ہوگئے تھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں