اوپیک پلس کاتوانائی کے نرخوں میں اضافے کے بعد تیل کی پیداوار بڑھانے کا فیصلہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

تیل برآمدکنندگان کی تنظیم اوپیک اور روس سمیت اتحادی ممالک نے جولائی اور اگست میں اپنی پیداوار میں 6 لاکھ 48 ہزار بیرل یومیہ اضافے کا فیصلہ کیا ہے جس سے توانائی کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور اس کے نتیجے میں افراط زر سے دوچارعالمی معیشت کو معمولی ریلیف ملے گا۔

اوپیک اور روس سمیت بعض اتحادی ممالک پر مشتمل گروپ 2020 سے پیداواری کٹوتی کو بتدریج بحال کررہا ہے اور ہر ماہ مسلسل پیداوار میں 432,000 بیرل یومیہ کا اضافہ کررہا ہے۔

اوپیک پلس نے جمعرات کو پیداوار بڑھانے کا فیصلہ ایسے وقت میں کیا ہے جب خام تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں نے امریکا میں گیسولین کو ریکارڈ بلند سطح پرپہنچا دیا ہے اور اس خدشے کا اظہار کیا جارہا ہے کہ توانائی کی بلند قیمتیں عالمی معیشت کو سست کرسکتی ہیں۔

اوپیک نے یوکرین پر حملے کے بعد روس کے خلاف پابندیوں کی وجہ سے پیداوارکی کمی کو پورا کرنے اور عالمی مارکیٹ میں ترسیل بڑھانے کے لیے اب تک امریکا کی درخواستوں کی مزاحمت کی ہے۔

امریکا میں سال کے آغاز سے خام تیل کی قیمتوں میں 54 فی صد اضافہ ہوا ہے اورگیسولین کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہورہا ہے۔

امریکا میں جمعرات کوگیسولین کی قیمت میں 4.71 ڈالر فی گیلن کاریکارڈ اضافہ دیکھا گیا ہے۔خام تیل کی قیمت امریکا میں پمپ پر گیسولین کی قیمت کاقریباً نصف بنتی ہے اور موسم گرما میں ڈرائیونگ کا سیزن شروع ہونے کے ساتھ ساتھ قیمتیں اوربھی زیادہ ہوسکتی ہیں۔

جرمنی میں حکومت نے افراط زرکے پیش نظرصارفین پر توانائی کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے بوجھ کو کم کرنے کی کوشش کی ہے۔اس کے فیصلہ کے تحت مقامی ٹرینوں، سب وے اور بسوں کا 9 یورو (10 ڈالر) ماہانہ کے عوض لامحدود استعمال ممکن ہو سکے گا۔

واضح رہے کہ خام تیل کے دنیا کے دوسرے سب سے بڑے برآمد کنندہ ملک روس نے گذشتہ سال اوپیک پلس (اوپیک کے علاوہ روس اورنودیگرتیل پیدا کرنے والے ممالک پر مشتمل گروپ) کے ساتھ ہر ماہ تیل کی پیداوار میں اضافہ کرنے پر اتفاق کیا تھا۔

تاہم 24 فروری کوروس کے یوکرین پرحملے کے بعد سے امریکااور اس کے یورپی اتحادیوں نے ماسکو کے خلاف سخت پابندیاں عاید کردی ہیں جس کے نتیجے میں عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے متجاوز کرچکی ہیں۔

امریکا نے مارچ میں روس سے تیل کی درآمدات پر پہلے ہی پابندی عاید کر دی تھی اور اس کے بعد برطانیہ نے کہا تھا کہ وہ سال کے آخر تک انھیں مرحلہ وار ختم کر دے گا۔پیر کو یورپی یونین نے روس کی خام تیل کی 90 فی صد درآمدات کو سال کے آخرتک بلاک کے رکن ممالک میں روکنے سے اتفاق کیا تھا۔

امریکانے دنیا میں خام تیل کے سب سے بڑے برآمد کنندہ اوراوپیک کے سرکردہ رکن سعودی عرب سے کہا ہے کہ وہ توانائی کی عالمی منڈی میں خلل سے نمٹنے کے لیے اپنی پیداوار میں اضافہ کرے۔

مقبول خبریں اہم خبریں