ترکی ہمسایہ شام میں کشیدگی کو بڑھاوا دینے والےاقدامات سے بازرہے :روس

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

روس نے ترکی کو خبردار کیا ہے کہ وہ شام کے شمالی علاقے میں کشیدگی کو بڑھاوادینے والے اقدامات سے بازرہے۔اس نے یہ انتباہ ترک صدر رجب طیب ایردوآن کے شمالی شام میں ’’دہشت گردوں‘‘ کو نشانہ بنانے کے لیے نئی فوجی کارروائی شروع کرنے کے اعلان کے بعد جاری کیا ہے۔

روسی وزارت خارجہ کی ترجمان ماریہ زخروفا نے جمعرات کو ایک نیوزبریفنگ میں کہا ہےکہ ’’ہمیں شام میں اس طرح کے زبردست آپریشن کی خطرناک رپورٹیں موصول ہوئی ہیں۔ شام کی جائزحکومت کی رضامندی کے بغیراس طرح کا اقدام اس ملک کی خودمختاری اورعلاقائی سالمیت کی براہ راست خلاف ورزی ہوگی اور اس سے کشیدگی میں مزید اضافہ ہوگا‘‘۔

انھوں نے مزید کہا:’’ہمیں امید ہے،انقرہ ایسے اقدامات سے گریزکرے گا جو شام میں پہلے سے ہی مشکل صورت حال میں مزید کسی خطرناک خرابی کا باعث بن سکتے ہیں‘‘۔

صدرایردوآن نے اپنے اعلان میں کہا تھا کہ ترکی شام میں کرد ملیشیا پیپلزپروٹیکشن یونٹس (وائی پی جی) کے خلاف سرحد پار آپریشن شروع کرے گا۔ترکی اس کردملیشیا کو کالعدم کردستان ورکرزپارٹی (پی کے کے) سے وابستہ دہشت گرد گروہ سمجھتا ہے۔

کالعدم پی کے کے کے جنگجوؤں نے ترکی کے جنوب مشرقی علاقے میں سکیورٹی فورسز کے خلاف 1980ء کے عشرے میں مسلح بغاوت برپا کی تھی۔اس تنازع میں اب تک ہزاروں افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

تاہم وائی پی جی ملیشیا حالیہ برسوں میں شام میں سخت گیر جنگجو گروپ داعش کے خلاف جنگ میں امریکا کی اتحادی رہی ہے اور اس نے شام کے شمال مشرقی اور کرداکثریتی علاقوں میں داعش کے قلع قمع میں اہم کردار ادا کیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں