عالمی بینک اورسعودی وزارت خزانہ کے اشتراک سے ٹیلنٹ فیلوشپ پروگرام کاآغاز

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

عالمی بینک گروپ (ڈبلیو بی جی) اورسعودی عرب کی وزارت خزانہ نے’’سعودی فیلوشپ پروگرام‘‘کا آغاز کیا ہے۔اس کا مقصد واشنگٹن میں عالمی بینک کے صدردفاتر میں سعودی شہریوں کو ملازمت کے مزید مواقع مہیا کرنا ہے۔

اس کے علاوہ سعودی پیشہ ورافراد کو مالیاتی شعبے میں اپنی مہارتوں نکھارنے،عالمی بینک میں افرادی قوت میں اپنی نمائندگی بڑھانے اور پائیدار ترقی کے لیےاہمیت کے حامل تکنیکی شعبوں میں نوجوان سعودی ٹیلنٹ کی مہارتوں کو بڑھانے میں مدد دینا ہے۔

وزارت خزانہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ سعودی فیلوز کو اس پروگرام کے ذریعے کام کے بین الاقوامی ماحول میں مہیّا کی جانے والی سہولتوں کے علاوہ ملازمت کے دوران میں تربیت، رہنمائی اورقیادت کی ترقی کے مواقع سے استفادہ کرنے کا موقع میسرہوگا۔

اس سمجھوتے پر معاون وزیرخزانہ برائے میکرو مالیاتی پالیسی اور بین الاقوامی تعلقات عبدالعزیزالرشید اور جی سی سی کے لیےعالمی بینک کے ریجنل ڈائریکٹراعصام ابوسلیمان نے دست خط کیے ہیں۔

اببوسلیمان نے کہا کہ اس پروگرام کا مقصد عالمی ترقیاتی ایجنڈے کے لیے اہمیت کے حامل تکنیکی شعبوں میں سعودی نوجوان کی صلاحیتوں کواجاگرکرنا ہے۔

سعودی وزیرنے کہا کہ نیا پروگرام ایسے اہل پیشہ ورافراد کے لیے ایک منفرد موقع فراہم کرتا ہے جو بین الاقوامی ترقی کا جذبہ رکھتے ہیں تاکہ وہ دنیا کے چند اہم ترین مسائل کو حل کرنے میں اپنا کردارادا کرسکیں۔

اس پروگرام کے ذریعے سعودی نوجوانوں کو پالیسی سازی اور حکمت عملی سے لے کر ترقیاتی منصوبوں کی شناخت، تیاری، تشخیص اور نگرانی تک ترقی پذیرممالک میں حکومتوں، سول سوسائٹی گروپوں، نجی شعبے اور دیگر کمپنیوں کے ساتھ کام کرنے کا موقع ملے گا۔اس سے سعودی ٹیلنٹ کو اپنی تکنیکی صلاحیتوں کواجاگرکرنے میں مدد ملے گی اورانھیں بین الاقوامی اور علاقائی تنظیموں میں سرکردہ عہدے حاصل کرنے کے لیے تیار کیا جائے گا۔

عبدالعزیزالرشید نے کہا کہ یہ پروگرام مملکت کے 2030 کے وژن کے عین مطابق ہے۔اس کا مقصد مقامی اور عالمی سطح پرنوجوانوں کی صلاحیتوں کو مستحکم کرنا اوراس بات کو یقینی بنانا ہے کہ وہ مستقبل کی ملازمتوں کے لیے جملہ اہلیتوں اور صلاحیتوں سے لیس ہوں۔

ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے وژن 2030 کے تحت مملکت نے اپنی معیشت کو کامیابی سے متنوع بنانے اور سعودی مارکیٹ میں متعدد شعبوں کو فروغ دینے میں بڑی کامیابی حاصل کی ہے جس سے وہ زیادہ منافع بخش ہوگئے ہیں اورغیرملکی سرمایہ کاری کو راغب کرنے کے لیے انھیں عالمی سطح پر نقشے پر لا کھڑا کیا گیا ہے۔

اس پروگرام کے تحت سعودی فیلوز کل وقتی کام کریں گے، فیلڈ مشن میں شامل ہوں گے اورعالمی بینک کے کام کے اہم پہلو سیکھیں گے۔یہ معاہدہ مملکت کی وزارت خزانہ کی جانب سے عالمی بینک میں سعودی ایگزیکٹو آفس کے ذریعے قومی پیشہ ورافراد کی شناخت اورترقی کے لیے شروع کی گئی وسیع ترکوشش کا حصہ ہے۔

خواہش مند امیدوار وزارت خزانہ کی سرکاری ویب سائٹ پر اس سعودی فیلوشپ پروگرام کے لیے درخواست دے سکتے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں