’عنود الشمری‘ کی موت تشدد سے نہیں ہوئی بلکہ طبعی تھی‘

ریاض میں مبینہ تشدد سے مرنے والی خاتون کی بہن کے تاثرات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں مبینہ تشدد سے ایک لڑکی عنود الشمری کی موت کی خبر سوشل میڈیا پر آنے پر عوام میں اس پر سخت غم وغصے کا اظہار کیا اور تشدد کے مرتکب افراد کو سزا دینے کا مطالبہ کیا۔

دوسری طرف مبینہ تشدد کا شکار ہونے والی خاتون کی موت کے بعد اسے گذشتہ روز سپرد خاک کر دیا گیا۔ فوت ہونے والی لڑکی کی بہن نے بتایا ہےکہ عنود پر تشدد کی بات درست نہیں۔ اس کی طبعی موت ہوئی ہے۔

متوفیہ عنود الشمری کی ہمشیرہ ایلاف الشمری نے وضاحت کی ہے کہ عنود کی موت تشدد سے نہیں ہوئی بلکہ اس کی موت طبعی طور پر ہوئی ہے۔

کم بلڈ پریشر

ایلاف شمری نے اپنی بہن کی وفات پر دُکھ اور صدمے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پولیس اس واقعے کی تحقیقات کر رہی ہے۔ ریاض پولیس عنود پر والد یا بھائیوں کے ہاتھوں تشدد کے الزامات کو مسترد کرے گی۔

’العربیہ ڈاٹ نیٹ‘ سے بات کرتے ہوئے ایلاف الشمری نے بتایا کہ 22 سالہ العنود شعبہ قانون میں زیر تعلیم تھیں لیکن اس سال کے دوران اس نے اپنی صحت کی خرابی اور مسلسل تکلیف کی وجہ سے پڑھائی جاری رکھنے سے معذرت کرلی تھی۔ عنود اکثر کم بلند فشار خون کی شکایت کرتی تھیں۔

ایلاف نے نشاندہی کی کہ آخری بار میں اپنی بہن سے عید الفطر کے موقع پر ملی تھی۔ سب نے محسوس کیا کہ وہ ڈپریشن اور مستقل بیماری میں مبتلا ہے۔

انہوں نے اس نے کہا کہ وہ معمول کے مطابق تقریبات میں شریک نہیں ہوئیں اور وہ کہہ رہی تھیں کہ وہ فیملی سے ملنا چاہتی ہیں۔

شادی کی تیاریاں

ایلاف نے وضاحت کی کہ العنود عید کے بعد بیمار ہو گئی تھی۔ وہ بے ہوش تھی۔ اسے ایمبولینس کے ذریعے اسپتال لے جایا گیا جہاں اس کا 3 بار کارڈیو پلمونری ریسیسیٹیشن ٹیسٹ ہوئے۔ اس نے کوئی بات نہیں کی۔ وہاں سے اسے شاہی گارڈ اسپتال پہنچایا گیا۔ وہاں اس نے بات کی جس کے بعد وہ پھر 19 دن تک کومے میں چلی گئی تھی۔

اس نے زور دے کر کہا کہ پورا خاندان اس کے خوف سے مشکل حالات میں جی رہا ہے۔ العنود آٹھ شوال کو اپنی شادی کی تیاری کر رہی تھی جب کہ والدین شادی کے تمام انتظامات کو حتمی شکل دینے میں اس کی مدد کر رہے تھے۔

انہوں نے کہا کہ عنود کے قتل کا الزام لگانے والوں کو بھی جواب دینا ہوگا۔ ریاض پولیس اس سارے معاملے کی چھان بین کر رہی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ موت کی وجہ کے بارے میں فرانزک رپورٹ جاری ہونے تک معاملے کی تحقیقات ہونا معمول کی بات ہے۔ تمام رپورٹیں پولیس تک پہنچ جائیں گی، جو اس بات کی تصدیق کرے گی کہ عنود کی موت طبعی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ میرے والد اور دو بھائیوں کو حراست میں لیا گیا ہے مگر سچ سامنے آنے کے بعد انہیں رہا کر دیا جائے گا۔

اس کے والد کی طرف سے شادی سے انکار کے بارے میں ایلاف نے کہا کہ والد العنود کی جلد شادی کے خواہاں اس لیے نہیں سمجھتے تھے کہ ان کے خیال میں ابھی وہ شادی کی ذمہ داریاں نہیں نبھا سکے گی مگر بعد میں وہ اس پر راضی ہوگئے تھے اور عنود کے منگیتر نے اس کے لیے فون بھی تحفے میں دیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں