’پینٹاگان‘ کا فلسطین کے ساتھ سیکیورٹی کوآرڈینیٹر کا درجہ کم کرنے پر غور

امریکی محکمہ خارجہ نے محکمہ دفاع کی تجویز کی مخالفت کردی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

امریکا کی مقبول نیوز ویب سائٹ ’ایگزیئس‘ نے اپنی رپورٹ میں حکام کے حوالے سے بتایا کہ محکمہ دفاع ’پینٹاگان‘ فلسطینی اتھارٹی کے ساتھ سیکیورٹی کوآرڈینیشن کا درجہ کم کرنے پر غور کر رہا ہے۔

پینٹاگان کا کہنا ہے کہ وہ فلسطینی اتھارٹی کے ساتھ سیکیورٹی کوآرڈینیٹر کو’تھری اسٹار جنرل‘ سے گھٹا کر کرنل کے عہدے تک کرنے پر غور کر رہا ہے۔

ویب سائٹ میں کہا گیا ہے کہ امریکی محکمہ خارجہ اور اسرائیلی وزارت دفاع کو تشویش ہے کہ اس طرح کے فیصلے سے امریکا اور فلسطینیوں کے درمیان سیکیورٹی تعاون کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ ساتھ ہی اسرائیلی اور فلسطینی حکام کے درمیان سیکیورٹی تعاون کو بھی نقصان پہنچ سکتا ہے اور پہلے سے کشیدگی کے شکارغرب اردن کے علاقوں میں کشیدگی مزید بڑھ سکتی ہے۔

اسرائیل اور فلسطینی اتھارٹی کے درمیان امریکی سیکیورٹی کوآرڈینیٹر کا عہدہ 2005 میں دوسری انتفاضہ کے بعد فلسطینی سیکیورٹی سروسز کی تعمیر نو اور اصلاحات کی کوششوں میں بنایا گیا تھا۔

امریکی رابطہ کار ہمیشہ 3-اسٹار جنرل رہا ہے جو سیکرٹری آف سٹیٹ اور چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کو رپورٹ کرتا ہے۔

کوآرڈینیٹر کے سینیر عہدیدار کو امریکا، اسرائیل اور فلسطینی اتھارٹی کے اعلیٰ ترین فوجی اور سیاسی عہدوں تک براہ راست رسائی کی اجازت دیتا ہے۔

سیکیورٹی کوآرڈینیٹر کی ٹیم میں نارتھ اٹلانٹک ٹریٹی آرگنائزیشن (نیٹو) کے 8 مختلف ممالک کے عسکری ماہرین بھی شامل ہیں۔

جرنیلوں کی تعداد میں کمی

"ایگزیئس" نے 4 موجودہ اور سابق امریکی عہدیداروں کی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا ہے کہ چیئرمین آف جوائنٹ چیفس آف اسٹاف جنرل مارک ملی نے گذشتہ مہینوں میں ایک منصوبہ تیار کیا جس کے مطابق نیشنل ڈیفنس اتھارٹی ایکٹ 2017 کے تحت جنرلز اور ایڈمرلز کی تعداد میں کمی کی جائے گی۔

سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے فیصلہ کیا کہ کمی کا ایک بڑا حصہ دنیا بھر کے اڈوں اور عہدوں پر تعینات امریکی جرنیلوں اور ایڈمرلز سے آنا چاہیے۔

موجودہ اور سابق امریکی حکام کے مطابق اس منصوبے میں اسرائیل اور فلسطینی اتھارٹی کے درمیان امریکی سیکیورٹی کوآرڈینیٹر کو تھری اسٹار جنرل سے گھٹا کر کرنل کے عہدے پر لانا شامل ہے۔

منصوبے کی مخالفت

’Axios‘ نے امریکی حکام کے حوالے سے کہا کہ امریکی محکمہ خارجہ پینٹاگان کے اس منصوبے کی مخالفت کرتا ہے۔ خاص طور پر امریکی سیکیورٹی کوآرڈینیٹر کے عہدے کے ساتھ ساتھ مشرق وسطیٰ میں امریکی قیادت کے دیگر عہدیداروں میں کمی کو وزارت خارجہ منفی پہلو سے دیکھ رہی ہے۔

موجودہ اور سابق امریکی حکام کے مطابق وزیر خارجہ انٹنی بلنکن نے وزیر دفاع لائیڈ آسٹن کو ایک مکتوب بھیجا ہے جس میں اس منصوبے کے بارے میں اپنے تحفظات کا اظہار کیا گیا ہے۔

اسرائیل میں امریکی سفیر ٹام نائیڈز نے پینٹاگان پر زور دیا کہ وہ اس منصوبے پر نظر ثانی کرے اور ’سی آئی اے‘ کے ڈائریکٹر ولیم برنز سمیت دیگر اعلیٰ حکام سے اس بارے میں غور کرنے کو کہا ہے۔

موجودہ امریکی سیکیورٹی کوآرڈینیٹر لیفٹیننٹ جنرل مائیکل فنزل نے کئی ہفتے قبل واشنگٹن میں ایک تھنک ٹینک میں ایک بند کمرہ اجلاس میں کہا تھا کہ انہیں تشویش ہے کہ درجہ گھٹانے سے مشن کو نقصان پہنچ سکتا ہے اور اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان سیکیورٹی کورابطہ کاری بھی متاثر ہو سکتی ہے۔

ایک سابق امریکی اہلکار نے اشارہ کیا کہ سیاسی امور کے انڈر سیکرٹری دفاع کولن کیل کو توقع ہے کہ وہ اس ہفتے کے آخر میں آسٹن کو اسرائیل اور فلسطینی اتھارٹی کے درمیان امریکی سیکیورٹی کوآرڈینیٹر کے عہدے پر برقرار رکھنے اور مشرق وسطیٰ میں دیگر عہدوں کے لیے مختلف آپشنز پیش کریں گے۔

ایک سینیر اسرائیلی اہلکار کے مطابق اسرائیلی حکومت بھی اس منصوبے کے اثرات کے بارے میں فکر مند ہے۔ ایک اور ذریعے کے مطابق فلسطینی بھی اس پر اعتراض کرتے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں