السعودیہ؛مشرقِ اوسط میں تیزی سے ترقی کرتی ’اے برانڈ‘فضائی کمپنیوں میں شامل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

سعودی عرب کی سرکاری ملکیتی فضائی کمپنی (السعودیہ) مشرقِ اوسط میں تیزی سے ترقی کرنے والی صفِ اول کی ایئرلائنوں کی درجہ بندی میں شامل ہے۔

کمپنی کے ایک بیان کے مطابق مملکت کی قومی پرچم بردارکے کاروباراورخدمات میں 13.1 فی صد اضافہ ہوا ہے اوراس کی برانڈ فنانس کی جانب سے ’اے‘ برانڈ کے طور پردرجہ بندی کی گئی ہے۔

برانڈ فنانس مختلف برانڈز کا جائزہ لینے والی کنسلٹنسی فرم ہے۔اس نے حال ہی میں اپنی سالانہ رپورٹ شائع کی ہے۔یہ دنیا بھر میں سرفہرست 50فضائی کمپنیوں کی درجہ بندی کرتی ہے۔

برانڈفرانس کسی فضائی کمپنی کی قدر کا حساب لگانے کے علاوہ مارکیٹنگ سرمایہ کاری، اسٹیک ہولڈر ایکویٹی اور کاروباری کارکردگی کا جائزہ لینے والے میٹرکس کے متوازن اسکورکارڈ کے ذریعے برانڈزکی نسبتی قدر اوہمیت کا تعیّن بھی کرتی ہے۔

کمپنی نے اپنے بیان میں کہا کہ حالیہ درجہ بندی برانڈ کی کارکردگی میں السعودیہ کی کامیابی کی عکاسی کرتی ہے اور اس کی وجہ اس کے روٹ نیٹ ورک میں مجموعی نمو ہے۔ اس کے علاوہ نئی منڈیوں میں توسیع،مسافروں کی تعداد میں اضافہ اورطیاروں میں مصنوعات، لاؤنج اور مہمانوں کی خدمات میں اضافہ بھی شامل ہے۔

السعودیہ کے چیف مارکیٹنگ آفیسر خالدطاش کا کہنا ہے کہ فضائی کمپنی کا برانڈ قوم کے برانڈ کی علامت ہے۔سیاحتی نظام کے فروغ اورغیرمعمولی بلند سطح پر زائرین کی تعداد کے باعث وہ ملک کے وژن 2030 کے مقاصد کو آگے بڑھانے کے لیے پیش پیش ہے۔

سعودی عرب اپنے وژن 2030 کے حصے کے طور پر 2030 تک ملک میں آنے والے سیاحوں کی تعداد کوبڑھا کر دس کروڑ سالانہ اور مذہبی زائرین کی تعداد تین کروڑ سالانہ کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔

السعودیہ کے مطابق اس کا فضائی بیڑا قریباً 150 ’’تنگ اور چوڑے حجم‘کے ایئربس اور بوئنگ طیاروں پر مشتمل ہے اور ان کے ذریعے 100 سے زیادہ بیرونی مقامات کے لیے پروازیں چلائی جارہی ہیں۔

گذشتہ ماہ سعودی عرب کی جنرل اتھارٹی برائے سول ایوی ایشن (جی اے سی اے) کے سربراہ عبدالعزیزبن عبداللہ الدعیلج نے العربیہ کو بتایا تھا کہ جاسا 2030 تک ہوائی اڈوں پرقریباً 33 کروڑ مسافروں کے انتظام وانصرام کی صلاحیت کو بڑھانے کا ارادہ رکھتی ہے۔

اس کے علاوہ اتھارٹی 2030ء تک بیرونی منازل کی تعداد میں بھی اضافہ کرنا چاہتی ہے اور وہ مملکت کے ہوائی اڈوں سے موجودہ ایک سو مقامات سے بڑھا کرڈھائی سو منازل تک پروازیں چلاناچاہتی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں