سوڈان میں فوج کی ملکیتی تجارتی کمپنیوں کے بند ہونے کا خدشہ

امریکا نے اپنے شہریوں کو سوڈان کی فوج اور ریاست کے زیر ملکیت کمپنیوں سے دور رہنے کا کہا ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

سوڈان حکومت نے فوج کے زیر انتظام چلنے والی کمپنیوں کی نجکاری کا ارادہ ظاہر کیا ہے۔ یہ کمپنیاں کوئی بھی شہری خرید سکے گا تاہم اسلحہ ساز فیکٹریوں کی نجکاری نہیں کی جائے گی۔

اس امر کا اظہار سوڈان کے وزیر مالیات ڈاکٹر جبریل ابراہیم نے شرم الشیخ میں نے سعودی عرب، قطر اور متحدہ عرب امارات کے نمائندوں کے ساتھ جاری مذاکرات کی سائیڈ لائنز پر میڈیا کے ساتھ بات چیت میں کیا ہے۔

سوڈان میں حکومتی کنٹرول میں کام کرنے والی چھ سو پچاس کاروباری کمپنیاں ہیں جن میں فوج کے زیر انتظام کام کرنے والی کمپنیاں بھی شامل ہیں۔ جنہیں حکومت بند کرنا چاہتی ہے یا ان کی نجکاری کا ارادہ رکھتی ہے۔

واضح رہے محض دو ہفتے قبل امریکی سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ نے سوڈان میں جاری سیاسی افرتفری کے پیش نظر اپنے تاجروں اور شہریوں کو سوڈان کی فوج اور ریاست کے زیر ملکیت کمپنیوں سے دور رہنے کا مشورہ دیا تھا۔

شرم الشیخ میں سوڈان کا نمائندہ خلیجی ممالک کے نمائندوں کے ساتھ ساتھ اسلامی ڈویلپمنٹ بنک کے نمائندوں کے ساتھ بات چیت کرنے آیا ہے۔ تاکہ سوڈان کی گرتی ہوئی معاشی حالت میں بہتری کی تدابیر کر سکیں۔

یہ بات چیت ان حالات میں ہو رہی جب خلیج تعاون کونسل ’’جی سی سی‘‘ کے اہم ملکوں نے کرونا کی وجہ سے مصری معیشت کو پہنچنے والے نقصان کے ازالے کے لیے بیس ارب ڈالر کی امداد دینے کا اعلان کیا ہے۔

سوڈانی وزیر ابراہیم نے بات چیت کے دوران کہا صدر عمر البشیر کا ایک عوامی تحریک کے بعد اقتدار ختم ہونے کے بعد شروع ہونے والی اصلاحاتی کوششیں جاری ہیں بعد ازاں سوڈانی فوج نے اکتوبر 2021 میں سوڈانی اقتدار پر قبضہ کر لیا تھا۔ مگر فوجی بغاوت کے بعد سے ایک جانب معاشی صورت حال خراب تر ہے تو دوسری جانب ساسی عدم استحکام کا سلسلہ جاری ہے۔

آئے روز کے عوامی احتجاج کے ساتھ ساتھ سیاسی کارکنوں بڑی تعداد جیلوں میں ہے۔ سیاسی بد امنی کے تدارک کے لیے پہلی بار ملک کی فوجی قیادت نے ملک کی ساسی جماعتوں کے ساتھ باضابطہ رابطہ کر کے مکالمہ شروع کرنے کا عندیہ دیا ہے۔

فوج کی عوام میں غیر مقبولیت کی سطح کافی اونچی ہے۔ اس لیے فوجی قیادت کی طرف سے سیاسی جماعتوں اور قائدین کے ساتھ مذاکرات کچھ زیادہ نتائج کی توقع بہیں ہے۔ یہ مذاکرات فوجی ٹیک اور کے بعد پہلی مرتبہ ہوں گے۔

سوڈان کی حکومت کی کوشش ہے کہ اسے مالی اعانت مل جائے کیونکہ امریکہ، یورپی یونین اور عالمی بنک فوجی حکومت کے بعد سے سوڈان کی اربوں ڈالر کی امداد روک چکے ہیں۔

شرم الشیخ میں سعودی عرب ، قطر اور متحدہ عرب امارات کے نمائندوں کے ساتھ اسی سلسلے میں مذاکرات جاری ہیں۔ سوڈانی وزیر جبریل ابراہیم کے مطابق انہیں امید ہے کہ یہ مذاکرات نتیجہ خیز ثابت ہوں گے۔ البتہ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا یہ کہنا مشکل ہے کہ متعین طور پر کتنی رقم مل سکے گی۔

دوسری جانب سوڈانی حکومت نے فوج کے زیر انتظام چلنے والی کمپنیوں کو اس لیے فروخت کرنے یا بند کرنے کا سوچنا شروع کیا کہ ان کمپنیوں سے ہونے والے خسارے اور ان پر ہونے والے اضافی اخراجات سے بچا جاسکے۔

خیال رہے غریب ممالک میں جہاں فوج زیادہ مضبوط اور سیاسی کلچر کمزور ہے وہاں عام طور فوج کے ماتحت اس طرح کے ادارے قائم کر کے ملکی تجارت اور صنعت میں بھی ایک حصے دار کے طور پر سامنے آتی ہے، لیکن سوڈان میں اب ان کمپنیوں کو منافع بخش انداز میں چلانا مشکل ہو گیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں