یمن اور حوثی

صنعا میں حوثیوں کے زیر اہتمام زینبیات ملیشیا کے نئے تربیتی کیمپ قائم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

باخبر یمنی ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ حوثی ملیشیا نے دارالحکومت صنعا میں لڑکیوں اور نوجوان خواتین کو راغب کرنے کے ایک نئے عمل کے لیے متعدد تربیتی کیمپ مختص کیے ہیں جن کا مقصد انہیں "زینبیات" نامی خواتین کی بٹالین میں بھرتی کرنا اورجنگ میں جھونکنا ہے۔

یمنی خبر رساں ایجنسی "خبر" نے صنعاء میں اپنے ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ حوثی ملیشیا نے لڑکیوں کو بھرتی کرنے کی ذمہ داری خواتین ثقافتی ونگ کی خواتین عہدیداروں کو سونپی ہے۔ ان نگرانوں کو ’مجاھدات‘ کہا جاتا ہے جن کا تعلق خواتین کے مسلح دھڑے "زینبیات" کی قیادت سے ہے۔

ذرائع نے بتایا کہ ملیشیا کی قیادت نے"زینبیات" کے اندراپنے متعدد ثقافتی نگرانوں اور دیگر کو منتخب کیا اور انہیں دارالحکومت کے سیکرٹریٹ کے متعدد محلوں میں ماؤں اور گھریلو خواتین کو لڑکیوں کے کردار کی اہمیت کے بارے میں قائل کرنے کا کام سونپا۔ اس مرحلے پر انہیں کیمپوں میں خصوصی تربیتی کورسز میں داخل کرنے کی ضرورت پر زور دیاجاتا ہےتاکہ نئی آنے والی لڑکیوں کوخصوصی کیمپوں میں فرقہ وارانہ نظریات کی تربیت دی جا سکے۔ اس کے ساتھ ساتھ ان خواتین کو اپنے دفاع کی آڑ میں عسکری تربیت بھی دی جاتی ہے۔

ذرائع نے بتایا کہ حوثی ملیشیا، اپنے نئے کیمپوں کے اندر کورسز مکمل کرنے کے بعد انہیں اپنے زیر کنٹرول شہروں کے داخلی راستوں پر اپنی چوکیوں پر تعینات کریں گے۔ یمنی معاشرہ اب تک اس طرح کا عادی نہیں۔

ذرائع کے مطابق، ملیشیا اپنے زیر کنٹرول علاقوں میں خواتین کے طبقے کو "کمزور ترین گروپ" کے طور پر دیکھتی ہے اور یہ سمجھتی ہے کہ انہیں آسانی سے دھوکہ دیا جاتا ہے۔ اس طرح وہ انہیں "زینابیت" بریگیڈ کی صفوں میں شامل کرنے پر آمادہ کیا جاتا ہے۔

سنہ 2017 میں، حوثی ملیشیا نے ایرانی لٹریچر سے لیس نام نہاد "زینابیت" بریگیڈز قائم کیا۔ حوثی باغی اس ملیشیا کو خواتین کی پولیس فورس کے طورپر استعمال کرتے ہیں۔ ’زینبیات ملیشیا‘ خواتین کو دبانے، بدسلوکی کرنے اور حوثی ملیشیا کے خلاف کسی بھی مظاہرے میں خواتین کو گرفتار کرنے، چھاپے مارنے، مخالفین کے گھروں کی تلاشی، خاندانوں کو دہشت زدہ کرنے اور لوٹ مار اور رقم چوری کرنے کے علاوہ اغوا اور جبری طور پر خواتین کو لاپتہ کرنے اور انہیں جیلوں میں خواتین قیدیوں پر تشدد کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں