روس اور یوکرین

یوکرین کا روس پرآرتھوڈوکس عیسائیوں کے تیسرے بڑے مقدس چرچ کونذرآتش کرنے کا الزام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

یوکرین کے مشرق میں واقع میں واقع آرتھوڈوکس چرچ کے تین بڑے مقدس مقامات میں سے ایک کو ہفتے کے روز نذرآتش کردیا گیا ہے جبکہ دونبس میں روسی اور یوکرینی فوج کے درمیان شدید لڑائی کی اطلاعات ملی ہیں۔

اس آرتھوڈکس چرچ کے حکام نے ہفتے کے روزایک بیان میں کہا ہے کہ لڑائی کے نتیجے میں مقدس آل سینیٹس سکیٹے ہولی ڈورمیشن سفیتوگرسک لافرا کے علاقے میں بڑے پیمانے پر آگ بھڑک اٹھی ہے اور آگ کے شعلوں نے لکڑی سے بنی چرچ کی مرکزی عمارت کو مکمل طور پر اپنی لپیٹ میں لے لیاہے۔

روس اور یوکرین کی فوجیوں کے درمیان اب مشرق میں واقع لوہانسک اور دونیتسک کے علاقوں میں جھڑپیں ہورہی ہیں جبکہ روسی فوج فروری میں حملے کے آغازپر یوکرینی دارالحکومت کیف پر قبضہ کرنے میں ناکام رہی تھی۔اس کے بعد اس نے وہاں سے پسپائی اختیار کرلی اورملک کے مشرقی علاقوں میں نئی صف بندی کی تھی۔

یوکرینی وزیرثقافت اولیکسنڈرتکاچینکو نے سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ میں چرچ میں آتش زدگی کا ذمہ دار روسی افواج کو قرار دیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ قریباً 300 بے گھر یوکرینی اس کے احاطے میں پناہ لیے ہوئے تھے۔ ان میں 60 بچے بھی شامل ہیں۔

انھوں نے حملے کی مذمت کرتے ہوئے بیان میں کہا کہ روس مہذب دنیا کا حصہ بننے میں اپنی نااہلی کا ثبوت دے رہا ہے۔انھوں نے ایک تصویر بھی پوسٹ کی ہے۔اس میں چرچ کے پیاز نما گنبدوں سے کالے دھویں اورآگ کے شعلے بلند ہوتے دیکھے جاسکتےہیں۔

روس کی وزارت دفاع نے سرکاری خبررساں ایجنسی تاس کی جانب سے جاری بیان میں کہا ہے کہ اس کی فوج خطے میں فوجی کارروائیاں نہیں کررہی ہے۔

اس گرجا گھر کا بیشترعمارتی ڈھانچا لکڑی سے بنا ہوا ہے اوراس کو یوکرین میں لکڑی کے سب سے بڑے گرجا گھروں میں سے ایک قراردیا جاتا ہے۔ یہ عمارت مبیّنہ طور پرگذشتہ ماہ میں پہلے بھی کئی بار لڑائی میں ہدف بن چکی ہے۔

اس گرجا گھر کوآرتھوڈوکس عقیدے کے پیروکار عیسائیوں کے لیے یوکرین کے تین مقدس ترین مقامات میں سے ایک شمار کیا جاتا ہے۔ جنگ سے پہلے اس جگہ ہرسال ہزاروں زائرین آتے رہے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں