اسماعیلیہ کے’قصائی‘ کو سزا سنانے والا جج دل کا دورہ پڑنے سے جاں بحق

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

مصر میں ایک جج عدالت میں کسی کی سماعت کے دوران حرکت قلب بند ہونے سے چل بسا۔

پورٹ سعید کریمنل کورٹ کے فرسٹ سرکٹ کے سربراہ جسٹس اشرف محمد علی حسین جنہیں اسماعیلیہ کے سیریل کلرکیس کا جج کہا جاتا تھا ہفتے کے روز دل کا دورہ پڑنے سے انتقال کر گئے۔

جج پورٹ سعید میں کورٹس کمپلیکس کے اندر ایک مقدمے کی سماعت شروع ہونے سے چند منٹ قبل بے ہوش ہو گیا۔ جب لوگوں کو پتا چلا تو انہوں نے جج کو اٹھا کر اسپتال لے جانے کی کوشش کی۔

58 سالہ جج نے اس مقدمے کا فیصلہ جاری کیا تھا جس میں میڈیا میں "اسماعیلیہ کے قصائی" کے نام سے مشہور عبدالرحمان دبور کو ملزم ٹھہرایا گیا تھا اور اسے پھانسی کی سزا سنائی تھی۔

عدالت نے اسماعیلیہ سیریل کلر کے کاغذات مفتی کو بھجوائے تھے تاکہ اسے سڑک پر ایک شہری کو ذبح کرنے کے الزام میں پھانسی دینے کے لیے قانونی رائے لیں۔

اسماعیلیہ کے قصائی کی کہانی اس وقت شروع ہوئی جب اسماعیلیہ سیکیورٹی کے ڈائریکٹر منصور لاشین کو یہ اطلاع ملی کہ ایک نوجوان نے دوسرے کو ذبح کر کے اس کا سر اس کے جسم سے الگ کر دیا ہے اور وہ تن سے جدا کیے سر کواٹھائے سڑک پر گھوم رہا ہے۔

سیکیورٹی سروسز جائے حادثہ پر پہنچ گئیں اور جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر مجرم کو گرفتار کرلیا تھا۔

ملزم عبدالرحمن دبور نے پبلک پراسیکیوشن کے سامنے بتایا کہ وہ 3 سال قبل مقتول کے بھائی حسن کے ساتھ فرنیچر کی دکان پر کام کرتا تھا اور نشے کے علاج کے لیے ایک کلینک میں داخل ہوا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں