یمن اور حوثی

حوثیوں نے کھیل کا میدان بچوں کے فوجی ٹریننگ کیمپ میں تبدیل کردیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
1 منٹ read

یمن میں ایرانی حمایت یافتہ حوثی ملیشیا کے مقررکردہ گورنر محمد البخیتی نے وسطی یمن کے شہر ذمار میں کھیلوں کے واحد اسٹیڈیم کو بچوں کی جنگی تربیت کے میدان اور ٹریننگ کیمپ میں تبدیل کر دیا ہے۔ اس کیمپ سے تربیت حاصل کرنے والے کم عمرافراد اوربچے بعد میں لڑائی میں جھونکے جائیں گے۔

سوشل میڈیا پر پوسٹ کی جانے والی ایک ویڈیو میں حوثی ملیشیا کے اس جنگی تربیتی مرکز اور اس میں موجود بچوں کو دیکھا جا سکتا ہے۔ ان میں سے بعض بچوں کی عمریں 10 سال کے لگ بھگ ہیں۔

مقامی نیوز ویب سائٹ’نیوز یمن‘ کے مطابق سپورٹس سٹیڈیم نوجوانوں کو فٹ بال میچوں سمیت کھیلوں کے انعقاد کے لیے استعمال ہونے کے بجائے جنگجوؤں کے تربیتی کیمپ میں تبدیل ہو چکا ہے۔ ذمار شہرکے اس اکلوتے گراؤنڈ میں ٹریننگ لینے والے 90 فیصد بچوں کی عمریں 15 سال سے کم ہیں۔

یمن کے وزیر اطلاعات معمر الاریانی نے اقوام متحدہ کی طرف سے اعلان کردہ جنگ بندی اور اس میں دو ماہ کی توسیع کے باوجود حوثی ملیشیا کی جانب سے بچوں کی جنگی تربیت جاری رکھنے کو"ایک خطرناک‘‘پیش رفت قرار دیا۔

ان کا کہنا تھا کہ حوثی ملیشیا امن کے دنوں سے فائدہ اٹھا کر نئی جارحیت کی تیاریوں میں مصروف ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں