روس اور یوکرین

فرانس کی روس کے بجائے یواے ای سے تیل،ڈیزل خریدکرنے کے لیے بات چیت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

فرانس روس سے درآمدکی جانے والی توانائی کے متبادل ذرائع تلاش کررہا ہے اور اس مقصد کے لیے وہ متحدہ عرب امارات سے پِٹرولیم مصنوعات خرید کرنے کے بارے میں بات چیت کررہا ہے۔

فرانسیسی وزیرخزانہ برونولی مائیر نے اتوار کے روز ایک بیان میں کہا ہے کہ توانائی کے شعبے میں خودمختاری میں اضافے کے لیے آف شور ونڈ فارمز کی تنصیب میں تیزی لانے کا منصوبہ بھی زیرغور ہے اور فرانس صاف توانائی کی منتقلی کے عمل کو تیزکرنے کے لیے سرمایہ کاری میں اضافہ چاہتا ہے۔

لی مائیر نے سی نیوز ٹی وی اور یورپ 1 ریڈیو کوانٹرویو دیتے ہوئے تصدیق کی ہے کہ’’ ہم روس سے گیس یا ڈیزل کی درآمدات کے متبادل تلاش کر رہے ہیں‘‘۔ان کے بہ قول ’’متحدہ عرب امارات عارضی طور پر تیل اور ڈیزل کی ترسیل میں روس کی جگہ لے سکتا ہے۔اس ضمن میں یواے ای کے ساتھ پہلے ہی بات چیت شروع ہوچکی ہے‘‘۔

یورپی یونین نے گذشتہ ہفتے یوکرین میں جنگ پرروس کے خلاف پابندیوں کے چھٹے پیکج کی منظوری دی تھی۔اس میں روس سے تیل کی درآمدات پر جزوی پابندی بھی شامل تھی۔

فرانسیسی صدرعمانوایل ماکرون نے کہا کہ معاہدے کے نتیجے میں سال کے آخرتک یورپی یونین میں روس سے تیل کی درآمدات میں قریباً 92 فی صد کمی کی جائے گی مگرانھوں نے یہ بھی کہا کہ روسی گیس پرپابندی سے انکار نہیں کیا جانا چاہیے۔

دریں اثناء یورپی یونین کے اندرونی مارکیٹ کمشنر تھیری بریٹن نے سی نیوزاور یورپ 1 کے ساتھ الگ سے ایک انٹرویومیں کہا کہ روسی رہ نما ولادی میرپوتین یورپ کو تقسیم کرنے کی کوشش میں گیس کا استعمال کررہے ہیں کیونکہ وہ یوکرین کے خلاف جنگ جاری رکھے ہوئے ہیں۔

بریٹن نے کہا کہ ’’ہمیں خود کو روسی گیس پرانحصار بھی ختم کرنا چاہیے،ہمیں اپنی خودمختاری جلد ازجلد واپس حاصل کرنی چاہیے کیونکہ ولادی میرپوتین کو یورپی منصوبہ پسند نہیں ہے۔انھوں نے برسوں سے یورپ کو تقسیم کرنے کے لیے سب کچھ کیا ہے۔اب وہ ہمیں تقسیم کرنے کے لیے گیس کا استعمال کررہے ہیں‘‘۔

مقبول خبریں اہم خبریں