نوپورشرما بی جے پی سے رُکنیت معطلی کے بعد توہین آمیزبیان سےغیرمشروط دستبردار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

بھارت کی حکمران انتہاپسند قوم پرست جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (پی جے پی) معطل رکن اور سابق قومی ترجمان نوپورشرما نے پیغمبراسلام حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف ایک ٹی وی مباحثے کے دوران میں دیے گئےتوہین آمیز متنازع بیان کو غیرمشروط طورپر واپس لے لیا ہے اورکہا ہےکہ کسی کے مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچانا ان کا کبھی ارادہ نہیں تھا۔

بی جے پی نے سخت عوامی ردعمل اور بالخصوص عرب دنیا کی جانب سے بھارت کے بائیکاٹ کی سوشل میڈیا پر مہم کے بعد آج اتوار کو نوپورشرما کی بنیادی رُکنیت معطل کی ہے۔ان کے خلاف عرب دنیا کے صارفین کی جانب سے ٹویٹر پرہیش ٹیگ #إلا_رسول_الله_يا_مودي کے عنوان سے ٹرینڈ چلایا گیا ہے اور یہ آج ٹاپ پر رہا ہے۔

شرمانے دعویٰ کیا کہ ان کے تبصرے ’’ہمارے مہادیو (شیودیوتا) کی مسلسل توہین اور بے عزتی‘‘کا رد عمل تھے کیونکہ وہ اسے برداشت نہیں کرسکتی تھیں۔

ٹویٹرپرپوسٹ کیے گئے ایک بیان میں انھوں نے کہا کہ’’میں گذشتہ کئی دنوں سے ٹی وی مباحثوں میں شرکت کررہی ہوں جہاں ہمارے مہادیو کی مسلسل توہین اور بے عزتی کی جارہی تھی۔ یہ مذاق اڑایا جارہا تھا کہ یہ شیولنگ نہیں بلکہ ایک چشمہ ہے۔ شیولنگ کا موازنہ دہلی میں سڑک کنارے نشانات اور کھمبوں سے کرکے بھی اس کا مذاق اڑایا جارہا تھا‘‘۔

وہ بظاہراس دریافت کا ذکرکررہی تھیں جس کے بارے میں بھارت کے بعض ہندوگروہوں نے دعویٰ کیا ہے کہ وارانسی کی تاریخی گیانوپی مسجد میں شیولنگ ہے۔انھوں نے مزید کہا کہ ’’اگر میری باتوں سے کسی کو تکلیف پہنچی ہے یا کسی کے مذہبی جذبات مجروح ہوئے ہیں تو میں اس کے لیےغیرمشروط طور پراپنا بیان واپس لیتی ہوں۔میرا مقصد کبھی کسی کے مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچانا نہیں تھا‘‘۔

بھارت میں بھی مسلم تنظیمیں اورگروپ نوپورشرما کے توہین آمیز بیانات کے خلاف مسلسل احتجاج کر رہے ہیں اوران کے خلاف قانونی کارروائی کا مطالبہ کررہے ہیں۔ان کے خلاف بھارت کے تین شہروں ممبئی، حیدرآباد اور پونے میں مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچانے کے الزام میں مقدمات بھی درج کیے گئے ہیں۔

بی جے پی کی مرکزی ترجمان نوپورشرما کے علاوہ دہلی شاخ کے ترجمان نوین کمارجندال نے بھی حال میں پیغمبراسلام صلی اللہ علیہ وسلم اور اسلام کے خلاف توہین آمیز بیانات جاری کیے ہیں جس کے بعد ان کی بھی بی جے پی کی بنیادی رُکنیت معطل کردی گئی ہے اور دہلی شاخ نے ان سے لاتعلقی اختیارکرلی ہے۔

ان دونوں انتہاپسند بھارتی لیڈروں کے متنازع بیانات کے خلاف عربوں نے شدید ردعمل کا اظہار کیا ہے اور سوشل میڈیا پرعرب دنیا میں بھارتی مصنوعات کے بائیکاٹ کی مہم چلائی جارہی ہے۔سعودی عرب میں بھی بھارتی مصنوعات کے بائیکاٹ کا ٹرینڈ سرفہرست رہا ہے۔

دریں اثناء قطرکی وزارت خارجہ نے بی جے پی کی خاتون ترجمان کے توہین آمیزتبصروں کے خلاف احتجاج کے لیے دوحہ میں متعیّن بھارتی سفیرکو طلب کیا ہے اور ایک احتجاجی مراسلہ ان کے حوالے کیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں