عالمی مارکیٹ میں تیل قیمتوں میں کمی،مگراوپیک پلس معاہدےکے بعد 120ڈالرفی بیرل میں سودے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

سعودی عرب کی جانب سے جولائی کے لیے خام تیل کی قیمتوں میں اضافے کے بعد پیرکو عالمی مارکیٹ میں تیل کے سودے 120 ڈالرفی بیرل تک ہوئے ہیں لیکن اس تیزی کے بعد دن کے اختتام پر قیمتوں میں کمی واقع ہوئی ہے۔

تیل برآمدکنندگان کی تنظیم اوپیک اورروس کی قیادت میں غیراوپیک ممالک پر مشتمل اتحاد نے گذشتہ ہفتےاپنے ماہانہ پیداواری ہدف کو بڑھانے کا فیصلہ کیا تھا۔اس کے بعد آج دن کے آغازمیں 121۰95 ڈالر فی بیرل کی بلند ترین سطح پرہوئے ہیں لیکن برینٹ کروڈ کے مستقبل کے سودے 52 سینٹ یا 0.4 فیصد کی کمی سے 1240 جی ایم ٹی پر 119.20 ڈالرفی بیرل میں ہوئے ہیں۔

امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) کے خام تیل کے سودے تین ماہ کی بلند ترین سطح 120.99 ڈالرفی بیرل میں طے پائے لیکن اس کے بعد 54 سینٹ یا 0.5 فی صد کی کمی سے 118.33 ڈالر فی بیرل پر بند ہوئے۔

سعودی عرب نے جون سے ایشیا کواپنے فلیگ شپ عرب لائٹ کروڈکی جولائی کی سرکاری قیمت فروخت (آفیشل سیلنگ پرائس،او ایس پی) میں 2.10 ڈالرکا اضافہ کرکے 6.50 ڈالر پریمیم کر دیا ہے۔ یہ مئی کے بعد سب سے زیادہ ہے جب روس کی جانب سے سپلائی میں خلل کی پریشانی کی وجہ سے قیمتیں بلند ترین سطح پر پہنچ گئی تھیں۔

عالمی مارکیٹ میں قیمتوں میں اضافے کے بعد گذشتہ ہفتے پیٹرولیم برآمد نندگان کی تنظیم اور روس کی قیادت میں اس کےاتحادیوں پرمشتمل اوپیک پلس نے جولائی اوراگست کے لیے پیداوار میں 6 لاکھ 48 ہزار بیرل یومیہ اضافہ کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔یہ مقدارپہلے کی منصوبہ بندی سے 50 فی صدزیادہ ہے۔

پیداواری ہدف میں یہ اضافہ اوپیک پلس کے تمام اراکین کے لیے کیا گیا تھا۔تاہم ان میں سے بیشترارکان کے پاس پیداواربڑھانے کی بہت کم گنجائش ہے۔ان میں روس بھی شامل ہے جسے اس وقت مغرب کی سخت پابندیوں کا سامنا ہے۔

جے پی مورگن کے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اضافی پیداواری صلاحیت کے حامل اوپیک پلس کے چند ایک رکن ممالک ہی ہیں اور ان کی پیداوار میں اضافہ جولائی میں قریباً 160,000بیرل یومیہ اوراگست میں 170,000بیرول یومیہ رہے گا۔

دریں اثناء سٹی بینک اور بارکلیز نے 2022ء اور2023ء کے لیےاپنی قیمتوں کی پیشین گوئی میں اضافہ کرتے ہوئے کہاکہ انھیں توقع ہے کہ رواں سال کے آخرتک روسی پیداواراور برآمدات میں قریباً دس سے پندرہ لاکھ بیرل یومیہ کی کمی واقع ہوگی۔

بعض تجزیہ کاروں کے مطابق اٹلی کی فرم اینی اور اسپین کی ریپسول اگلے ماہ ہی وینزویلا کے تیل کی تھوڑی مقدار کی یورپ میں ترسیل شروع کرسکتے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں