ہمارا ملک دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہ نہیں: فن لینڈ کا ترکی کو جواب

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

اتوار کو فن لینڈ کے انٹیلی جنس چیف نے کہا ہے ان کا ملک مضبوطی سے بین الاقوامی دہشت گردی سے لڑ رہا ہے اور وہ غیر ملکی جنگجوؤں کو پناہ نہیں دیتا۔

انٹے بلٹری نے اعلیٰ سطح کے ترک سیاست دانوں کے ان الزامات کے جواب میں کہ ہیلسنکی ترکی میں کالعدم کردستان ورکرز پارٹی (PKK) کے ارکان کو پناہ دے رہا ہے کے جواب میں کہا کہ "ہم دہشت گردی کی پناہ گاہ نہیں ہیں۔ ہم اپنے قوانین اور طریقہ کار کے اندر رہتے ہوئے کام کرتے ہیں اور یورپی یونین کی دہشت گرد تنظیموں کی فہرست کے اصولوں کی پیروی کرتے ہیں۔ ان کا یہ بیان برطانوی اخبار فنانشل ٹائمز کی ویب سائٹ پر آج شائع ہونے والے ایک انٹرویو میں سامنے آیا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ہم کئی سال سے ’PKK‘ کی سرگرمیوں پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔ اس سال کی رپورٹ میں ہم نے PKK کی سرگرمیوں کی مالی معاونت کا معاملہ اٹھایا ہے۔ ہم اسے بہت سنجیدگی سے لیتے ہیں۔ یہ واضح طور پر ایک دہشت گرد تنظیم ہے۔

بیلٹاری نے وضاحت کی کہ فن لینڈ اورتُرکی نے اس سے قبل انسداد دہشت گردی کے معاملات بالخصوص شام میں جنگ کے تناظر میں ایک دوسرے کے ساتھ بہت موثر تعاون کیا ہے۔

نیٹو میں فن لینڈ کے ممکنہ الحاق کے تناظر میں روسی فن لینڈ کی سرحد پر صورتحال کے بارے میں بات کرتے ہوئے ہیلسنکی کی جانب سے اتحاد میں شامل ہونے کے لیے درخواست جمع کرانے کے بعد انہوں نے کہا کہ "کچھ بھی تبدیل نہیں ہوا ہے۔ سب کچھ کافی پرسکون ہے، آئیے امید کرتے ہیں کہ یہ اسی طرح رہے گا۔"

ترک صدر رجب طیب ایردوآن نے کہا تھا کہ نیٹو میں سویڈن اور فن لینڈ کی شمولیت پران کے ملک کا موقف ان کے مطالبات کو پورا کیے بغیر تبدیل نہیں ہوگا۔

اتوار کوحکمراں جسٹس اینڈ ڈیولپمنٹ پارٹی کی ایک کانفرنس کے دوران ترک صدر نے زور دے کر کہا کہ جب تک ہمارے مطالبات تسلیم نہیں کیے جاتے، ہم نیٹو کی توسیع پر اپنا موقف تبدیل نہیں کریں گے۔"

مقبول خبریں اہم خبریں