امریکی ادارے نے اشرف غنی کو ڈالر چوری کے الزام سے تقریبا بری کر دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

طالبان کے کابل میں داخل ہونے سے پہلے 15 اگست 2021 کو صدارتی محل سے اپنے چند قریبی افراد کے ساتھ فرار ہونے پر بزدلی کے طعنوں کے ساتھ زندگی گزارنے کے علاوہ 169 ملین ڈالر کی خطیر رقم اڑا لے جانے کے الزام کی زد میں رہنے والے سابق افغان صدر اشرف غنی کے لیے تقریبا دس ماہ بعد ایک اچھی، مگر فی الحال ادھوری خبر آئی ہے۔ یہ خبر ان کے حق میں کسی امریکی ادارے کی اب تک پہلی گواہی ہے۔ اگرچہ اس گواہی کے مکمل ہونے کے بعض لوازمات کا انتطار ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اشرف غنی صدارتی محل سے 169 ملین ڈالر کی رقم چوری کر کے کابل سے فرار ہوئے تھے، یہ شاید درست نہیں ہے۔ اشرف غنی کو ابھی اس الزام سے مکمل طور پر بری تو نہیں کیا گیا لیکن جو شواہد اور دلائل اشرف غنی کے حق میں امریکی سپیشل انسپیکٹر جنرل فار افغانستان ری کنسٹرکشن (سگار) نے اپنی اس رپورٹ میں لکھا ہے کہ ''بلا شبہ کابل کے صدارتی محل سے اس روز اڑنے والے ہیلی کاپٹروں میں کچھ رقم رکھی گئی تھی مگر شواہد ظاہر کرتے ہیں کہ ہیلی کاپٹروں میں رکھ کر لے جانے والی کل رقم ایک ملین ڈالر سے زیادہ نہ تھی۔ بلکہ پانچ لاکھ ڈالر کے قریب تھی۔ ''

واضح رہے پندرہ اگست کو کابل سے اشرف غنی وغیرہ کے فرار کے بعد یہ خبریں مسلسل آنے لگی تھیں کہ وہ صدارتی محل سے 169 ملین ڈالر ہیلی کاپٹروں میں بھر کر لے گئے ہیں۔ لیکن سابق افغان صدر اشرف غنی نے ان اطلاعات کی سخت تردید کی تھی۔

''سگار '' کی مرتب کردہ رپورٹ میں انٹرویو کا سہار لیا گیا۔ یہ انٹرویوز ان افراد سے کیے گئے جنہوں نے سابق افغان صدر کے ساتھ کابل کے صدارتی محل سے فراری کا اکٹھے سفر کیا۔ ان کے ساتھ رہے یا صدارتی محل میں کسی ذمہ داری پر تھے، اس لیے یہ اندازہ ان انٹرویوز کی بنیاد پر ہی لگایا گیا ہے کہ ''اتنی بڑی رقم نہیں لے جائی گئی تھی۔

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ہیلی کاپٹرز پہلے اوور لوڈڈ تھے کہ لوگ اپنی جانیں بچانے کے لیے صدارتی محل چھوڑ کر جارہے تھے۔ اس لیے 169 ملین ڈالر کی رقم کو ہیلی کاپٹروں میں رکھنے کی جگہ ہی نہ تھی۔ کیونکہ ایک سو انہتر ملین ڈالر کی رقم کو اکٹھا اور ترتیب سے رکھا جاتا تو یہ دو اعشاریہ تین میٹر لمبا، تین فٹ چوڑا اور تین فٹ اونچے ایک بلاک کی شکل اختیار کر جاتا۔ جبکہ اس ڈالروں سے بنے بلاک کا وزن 3722 پاونڈز ہوتا جو کہ تقریبا دو ٹن کے برابر ہوتا۔ ''

سگار نے اپنی رپورٹ کی تیاری کے دوران یہ نوٹ کیا ہے کہ ہیلی کاپٹروں پر جانے والے اور ان کی روانگی کو دیکھنے والے گواہوں کے مطابق ہیلی کاپٹروں میں انتہائی کم سامان تھا اور کارگو نہیں تھا۔'' رپورٹ کے مطابق ''ایک سرکاری ذمہ دار کے پاس تقریبا دو لاکھ ڈالر تھے، ایک اور ذمہ دار کے پاس دو لاکھ چالیس ہزار ڈالر تھے، جبکہ دیگر کے پاس پانچ ہزار سے دس ہزار ڈالر تک تھے جو ان کی جیبوں میں تھے۔''

''سگار'' نے البتہ تقریبا پانچ ملین ڈالر کی اس خطیر رقم کے بارے میں حالات کی پر اسراری کو محسوس کیا ہے جو مبینہ طور پر محل میں رہ گئے تھے۔'' اس بڑی رقم کے بارے میں واضح نہیں ہو سکا کہ یہ رقم کہاں سے آئی تھی اور کس مقصد کے لیے آئی تھی؟ مفروضاتی طور پر یہ خیال ہے کہ رقم طالبان کے صدارتی محل میں داخل ہونے سے پہلے صدارتی محل کے محافظین میں تقسیم ہو گئی۔ ''

امریکی واچ ڈاگ کی اس رپورٹ میں یہ نہیں کہا گیا کہ آیا واقعی واضح طور پر سینکڑوں ملین ڈالر کی رقم کابل کے صدارتی محل سے سرکاری حکام کسی دوسرے ملک لے کر گئے تھے۔ کیا اس طرح چوری ہونے والی کوئی رقم امریکہ نے فراہم کر رکھی تھی؟ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ''سگار'' نے سابق افغان صدر کو بھی اس بارے میں سوالنامہ بھیجا تھا مگر ان کا جواب موصول نہیں ہو سکا۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ سابق صدر اشرف غنی کے جواب سے پہلے ہی یہ رپورٹ آ گئی ہے۔ لیکن اشرف غنی جن کی اس رپورٹ میں تقریبا براءت کا اعلان ہے، ابھی تک جواب دینے سے گریزاں کیوں ہیں؟ اس رپورٹ کے آنے بعد کیا یہ ممکن ہو گا کہ وہ بطور افغان شہری دوبارہ افغانستان کی سیاست میں کوئی کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہو سکیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں