متحدہ عرب امارات میں ’’آبلۂ بندر‘‘کے مزید پانچ کیسوں کی تصدیق، دو صحت یاب

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

متحدہ عرب امارات کی وزارت صحت و روک تھام (ایم او ایچ اے پی) نے ملک میں ’’آبلۂ بندر‘‘(منکی پاکس) کے پانچ نئے کیسوں کا اعلان کیا ہے۔

یواے ای کی سرکاری خبررساں ایجنسی وام کی رپورٹ کے مطابق آبلۂ بندرکا شکار دو مریض صحت یاب ہوگئے ہیں۔عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے مطابق اس مرض کی علامات دو سے چار ہفتوں تک جاری رہ سکتی ہیں۔

یواے ای میں آبلۂ بندر کے پہلے کیس کی 24 مئی کو تصدیق کی گئی تھی۔ یہ غیرملکی مسافر مغربی افریقا کے ایک ملک سے تعلق رکھتا تھا۔یواے ای میں آمد کے بعد اس کا ٹیسٹ کیا گیا تھا اور وہ اس بیماری میں مبتلا پایا گیا تھا۔

وزارت صحت نے عوام کوخبردارکیا ہے کہ وہ سفراور سماجی اجتماعات کے دوران میں اس بیماری سے بچاؤ کی احتیاطی تدابیراختیارکریں۔

امریکاکے مرکزبرائے انسدادامراض اورروک تھام (یو ایس سینٹرفار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریوینشن،سی ڈی سی) کے مطابق آبلۂ بندر کسی متاثرہ شخص کے جسمانی سیال یا زخموں کی منتقلی کے ذریعے یا اس مواد کے ذریعے پھیل سکتا ہے جو اس کے کپڑوں یا بستر پرلگا ہو اور اس کو چھونے والافرد اس وائرس کا شکار ہوسکتاہے۔یہ کسی ماں کے رحم سے بچے میں بھی منتقل ہوسکتا ہے۔

متحدہ عرب امارات نے جانوروں سے لگنے والی اس بیماری کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے ابتدائی طور پرسخت اقدامات متعارف کرائے تھے۔ان کے مطابق مریضوں کو صحت یاب ہونے تک اسپتالوں میں مکمل تنہائی میں رہناہوگا اور جو کوئی بھی متاثرہ افراد کے رابطے میں آیا ہے،اسے کم سے کم 21 دن کے لیے گھرمیں قرنطینہ کردیا جائے گا۔تنہائی کی مدت کے دوران میں ان کی صحت کی صورت حال پر کڑی نظر رکھی جائے گی۔

اس کی علامات میں سردرد، بخار، پٹھوں کا درد، تھکاوٹ اور جلد پر مخصوص زخم شامل ہیں۔اس بیماری کا شکار ہونے والے زیادہ ترافراد عام طور پرچند ہفتوں میں صحت یاب ہو جاتے ہیں، لیکن اس میں اموات کی شرح قریباً 10 فی صد ہوتی ہے۔

متحدہ عرب امارات میں طبی ماہرین نے العربیہ کو بتایا کہ چیچک کے ٹیکے آبلۂ بندر سے 85 فی صد تک بچا سکتے ہیں۔

دریں اثناء رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق برطانیہ کی ہیلتھ سکیورٹی ایجنسی نے کہا ہے کہ بدھ سے منکی پاکس کو ایک قابل اطلاع متعدی بیماری قراردیا جائے گا، یعنی برطانیہ میں ڈاکٹروں کو مقامی حکام کو اس کے کیسوں سے اس وقت ہی مطلع کرنا ہوگا جب انھیں شُبہ ہو کہ کوئی مریض اس وائرس کا شکار ہے۔

عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے مطابق آبلۂ بندر کی شناخت پہلی بار1970ء میں جمہوریہ کانگو میں انسانوں میں ہوئی تھی اور یہ وائرس بندروں سے انسانوں میں منتقل ہوا تھا۔یہ جانوروں سے انسانوں میں منتقل ہوسکتا ہے اور اسی ایک متاثرہ فرد سے دوسرا فرد اس کا شکار ہوسکتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں