ایران جوہری معاہدہ

امریکا کا ایران کوجوہری تنصیبات میں نصب آئی اے ای اے کے کیمرے بند کرنے پرانتباہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

امریکا نے کہا ہے کہ وہ یورپی شراکت داروں کے ساتھ مل کرایک قرارداد پیش کررہا ہے جس میں ایران سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ اقوام متحدہ کے جوہری نگران ادارے کے تعلق سے اپنی قانونی ذمہ داریوں کی تکمیل کے لیے’’فوری بنیادوں پر‘‘کارروائی کرے لیکن اس نے اس بات پرزور دیا کہ وہ ایرانی کے ساتھ کشیدگی میں اضافہ نہیں چاہتا ہے۔

ویانا میں قائم آئی اے ای اے میں امریکی سفیرلورا ہولگیٹ نے بورڈ آف گورنرز کے اجلاس میں کہا کہ یہ ضروری ہے کہ ایران آئی اے ای اے (بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی) کو اپنے سوالات کی وضاحت اور حل کے لیے تمام ضروری معلومات اور دستاویزات فراہم کرے۔

انھوں نے کہا کہ ہم سیاسی مقاصد کے لیےتصادم کو بڑھانے کے لیے یہ مطالبہ نہیں کر رہے ہیں اور نہ ہم اس طرح کی کوئی کشیدگی چاہتے ہیں۔

امریکااس امید کے ساتھ آئی اے ای اے میں ایران کی مذمت کرنے پر زوردے رہا ہے کہ وہ ایران کو 2015 کے جوہری معاہدے کی بحالی پر قائل کرنے میں کامیاب ہو جائے گا۔امریکا نے سابق امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے دور میں اس معاہدے سے یک طرفہ طور پردستبرداری اختیار کر لی تھی اور اب وہ اس کی بحالی کا خواہاں ہے۔

لیکن ایران میں تین مختلف مقامات پر یورینیم کے ذرّات کی غیرواضح موجودگی کے بارے میں آئی اے ای اے کی حالیہ اطلاعات نے واشنگٹن میں نئے خدشات کو جنم دیا ہے کہ تہران جوہری ہتھیارحاصل کرنے کی صلاحیت کے قریب پہنچ رہا ہے۔

ایران کی تورقوزآباد،ورامین اور ماریوان وہ تین مختلف جگہیں ہیں جن پر آئی اے ای اے نے سوالات اٹھائے ہیں۔ حالیہ دنوں میں ایران نے دھمکی دی ہے کہ وہ آئی اے ای اے کے بورڈ آف گورنرز کے اجلاس میں اپنے خلاف تنقید کی کسی بھی کوشش کا جواب دے گا۔اب ایران کا کہنا ہے کہ وہ اپنی تنصیبات کے اندر نصب آئی اے ای اے کےنگران کیمرے ہٹا دے گا۔

ہولگیٹ نے خبردار کیا کہ’’ اگرایران نے تازہ قرارداد کے جواب میں شفافیت میں کمی کی تو یہ ان سفارتی نتائج کے برعکس ہوگا جن کی امریکا تلاش میں ہے‘‘۔انھوں نے کہا کہ آئی اے ای اے کی جوہری تنصیبات تک رسائی کو محدود کرنے اور اس ادارے کو صرف اپنے کام کی وجہ سے سیاست زدہ بنانے کی کوششوں سے کوئی مقصد حاصل نہیں ہوگا۔

امریکی سفیرنے کہا کہ ’’ایران کو آئی اے ای اے کے ساتھ تعاون کرنا چاہیے تاکہ وہ مزیدتاخیر کے بغیراپنی تصدیق اور نگرانی کے مینڈیٹ کو پورا کر سکے۔ہم کشیدگی میں اضافہ نہیں چاہتے۔اس کے بجائے ہم ایران کی قانونی ذمہ داریوں کے مطابق قابل اعتماد وضاحتیں چاہتے ہیں اور وہی بالآخرہمیں ان مسائل سے چھٹکارا دلا سکتی ہیں‘‘۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں