برلن میں اسکول کے طلبہ کو کچلنے والی کار سے ترکی سے متعلق پلے کارڈز برآمد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
1 منٹ read

جرمنی کے ایک مقامی سیاستدان نے بتایا کہ بدھ کے روز دارالحکومت برلن کے مغربی علاقے میں مبیّنہ طور پر اسکول کے بچّوں کے ایک گروپ کو کچلنے والی کار سے ترکی سے متعلق پلے کارڈز برآمد ہوئے ہیں۔کارکے ڈرائیورکی اس حرکت کے نتیجے میں بچوں کا استاد ہلاک ہو گیا ہے اور تیس افراد زخمی ہوئے ہیں۔

شہر کے ریاستی وزیرداخلہ آئرس اسپرنجر نے روزنامہ بلد کی ایک میڈیا رپورٹ کی تردید کی ہے جس میں کہا گیا تھا کہ کار سے ایک اعترافی خط ملا ہے۔انھوں نے کہا کہ یہ خط نہیں بلکہ پلے کارڈز تھے۔

ڈرائیور نے مغربی برلن میں لوگوں کے ہجوم پراپنی کارچڑھا دی تھی جس کے نتیجے میں اسکول کے متعدد طلبہ اور دیگرافراد زخمی ہوگئے تھے۔بعد میں ایک استاد کی ہلاکت کی تصدیق کی گئی ہے اور حکام کا کہنا ہے کہ واقعے میں 30 افراد زخمی ہوئے ہیں۔

یہ واقعہ 19 دسمبر 2016 کو ایک مہلک حملے کے مقام کے قریب پیش آیا ہےجب اسلام پسندوں سے روابط رکھنے والے تُونسی پناہ گزین انیس عمری نے ایک ٹرک کو اغوا کر لیا تھا، اس کے ڈرائیور کو ہلاک کر دیا اور پھر اسے مغربی برلن کی کرسمس مارکیٹ پر چڑھا دیا تھا۔اس کے نتیجے میں 11 افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہو گئے تھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں