وائٹ ہاؤس کالہجہ تبدیل؛امریکاکےآٹھ دہائیوں سے ’تزویراتی شراکت دار‘سعودی عرب کی تعریف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

وائٹ ہاؤس نے منگل کے روز سعودی عرب کے بارے میں ایک بڑے مختلف لب ولہجے میں بات کی ہے اور گذشتہ ڈیڑھ ایک سال کے دوران میں بائیڈن انتظامیہ کے عہدے داروں کے گذشتہ تندوتیز تبصروں کے برعکس مفاہمانہ لب ولہجہ اختیارکیا ہے۔

جنوری 2021ء میں امریکی صدرجو بائیڈن کے اقتدرسنبھالنے کے بعد واشنگٹن اور الریاض کے درمیان تعلقات سردمہری کا شکار ہوگئے تھے لیکن یوکرین پر روس کے حملے اور دیگرجغرافیائی،سیاسی پیش رفتوں کے پیش نظراب بائیڈن انتظامیہ کے حکام سعودی عرب کے ساتھ تعلقات کو بہتربنانے کے لیے کوشاں ہیں۔بالخصوص سعودی عرب کی جانب سے تیل کی پیداوار بڑھانے کے امریکی مطالبات کے استرداد کے بعد ان کے لہجے میں نمایاں تبدیلی رونما ہوئی ہے۔

وائٹ ہاؤس کی پریس سیکرٹری کیرین ژاں پیئر نے منگل کو نیوزبریفنگ میں کہاکہ سعودی عرب آٹھ دہائیوں سے امریکا کا تزویراتی شراکت دار(اسٹریٹجک پارٹنر) رہا ہے۔ ایف ڈی آر (فرینکلن ڈیلانو روزویلٹ) کے بعد سے ہر صدر نے سعودی رہنماؤں سے راہ ورسم استوار کیے ہیں اور صدر (بائیڈن) بھی سعودی عرب کو متعدد علاقائی اور عالمی حکمت عملیوں میں اہم شراکت دار سمجھتے ہیں۔

پیئر نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے یمن میں جنگ کے خاتمے، ایران کومحدود کرنے اور انسداد دہشت گردی کی کوششوں میں سعودی عرب کی مدد کا حوالہ دیا۔

انھوں نے کہا کہ سعودی پائلٹوں نے داعش کے خلاف جنگ میں ہمارے ساتھ پروازیں کی ہیں، بحیرہ احمر اور خلیج میں ہمارے ساتھ اس کی بحریہ کا گشت معمول ہے اور امریکی فوجی اہلکار سعودی عرب میں تعینات ہیں۔

توقع کی جارہی تھی کہ صدر بائیڈن رواں ماہ کے آخر میں شاہ سلمان بن عبدالعزیز اور ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سمیت اعلیٰ حکام سے ملاقات کے لیے سعودی عرب جائیں گے۔ لیکن ان کے دورے کے شیڈول کو ابھی حتمی شکل نہیں دی گئی اور اب توقع کی جارہی ہے کہ وہ جولائی میں اسرائیل کے ساتھ مملکت کا یہ دورہ کرے گا۔

زیادہ ترترقی پسند ڈیموکریٹس نے امریکا اورسعودی عرب کے درمیان خراب تعلقات کو بہتربنانے کے لیے مفاہمتی کوششوں میں روڑے اٹکائے ہیں لیکن ژاں پیئر کے بہ قول صدر بائیڈن امریکی عوام کے مفادات کی تکمیل میں کسی بھی رہ نما سے ملاقات کرنے کو تیار ہوں گے۔

انھوں نے کہاکہ ان کے خیال میں سعودی رہنماؤں کے ساتھ تعلقات واضح طور پراس معیار اور جانچ پرپورا اترتے ہیں اور اس سے پہلے بھی ہرصدر نے سعودی عرب کے ساتھ اچھے معمول کے تعلقات استوار کیے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں