’امریکا شامی صدربشارالاسد کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کی کوششوں کی حمایت نہیں کرتا‘

ہمیں شام میں ممکنہ فوجی اقدامات کے بارے میں ترکی کی حالیہ بیان بازی پرگہری تشویش لاحق ہے: باربرا لیف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

مشرقِ اوسط کے لیے امریکا کی اعلیٰ سفارت کار نے واضح کیا ہے کہ بائیڈن انتظامیہ کا شامی صدربشارالاسد کے ساتھ تعلقات معمول پرلانے یا ان کی بحالی یا حکومت پرعاید پابندیاں اٹھانے کی کوششوں کی حمایت کرنے کا کوئی منصوبہ نہیں۔

معاون وزیرخارجہ برائے مشرق قریب امور باربرا لیف نے امریکی قانون سازوں کو بدھ کو بتایا کہ بشارالاسد اور ان کے ارد گرد موجود لوگ شام میں جاری بحران کے سیاسی حل میں سب سے بڑی رکاوٹ ہیں۔

لیف نے سینیٹ کی خارجہ تعلقات کمیٹی کے روبرو اپنے بیان میں کہا کہ شام میں جاری المیے کی حتمی ذمہ داری بشار الاسد پرعاید ہوتی ہے۔انھیں روس اورایران کی حمایت حاصل ہے اور انھوں نے اپنے ہی ملک کو اس خوفناک حالت تک پہنچایا ہے۔وہ سخت گیر ہیں اورانھوں نے شامیوں کو بہترمستقبل کی کوئی امید دلانے سے انکارکردیا ہے۔

اگرچہ یوکرین پرروس کے حملے نے شام سمیت دنیابھر میں جاری جنگوں سے توجہ ہٹادی ہے لیکن لیف نے کہا کہ وہ محکمہ خارجہ میں شام کو’’ترجیح‘‘ بنانے کا ارادہ رکھتی ہیں۔کانگریس نے آج ہی مس لیف کے تقرر کی ایک سال کے بعد توثیق کی ہے۔

امریکی سفارت کار نے کہا کہ واشنگٹن بشارالاسدحکومت پردباؤڈالنے کے لیے اپنے تمام حربے استعمال کرے گا۔ان میں قیصرایکٹ کی پابندیاں بھی شامل ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ میں اس بات پر حیران ہوں کہ بشارالاسد کا خیرمقدم کیاججارہا ہے۔

لیف اوردوسینیرسینیٹروں نے بشارالاسد کی بحالی کی کسی بھی کوشش کو مسترد کردیا اورانھوں نے شامی صدر کا خیرمقدم کرنے والے ممالک کی کوششوں کی بھی سخت مخالفت کی ہے۔

لیف نے کہا کہ وہ مارچ میں متحدہ عرب امارات کی طرف سے بشارالاسد کا خیرمقدم دیکھ کر’’حیران‘‘ہیں۔انھوں نے شام میں خانہ جنگی شروع ہونے کے بعد کسی عرب ملک کا یہ پہلا دورہ کیا تھا۔خارجہ تعلقات کمیٹی کے اعلیٰ ریپبلکن سینیٹر جم رش نے کہا کہ یہ دورہ ’’گھناؤنا‘‘فعل ہے۔

اطلاعات کے مطابق بعض عرب ریاستوں کا خیال ہے کہ شام کوعرب لیگ میں واپس لانے سے دمشق اور ایران کے درمیان فاصلہ بڑھ سکتا ہے۔2011ء میں جنگ شروع ہونے کے بعد سےعرب لیگ میں شام کی رُکنیت معطل ہے۔

لیف نے بشارالاسد کو تہران سے دور اورعرب ممالک کے قریب کرنے کی صلاحیت پر بات کرتے ہوئے کہا کہ میرے خیال میں وہ ہر سمت سے کچھ ناکچھ حاصل کررہے ہیں اور اس کے بدلے میں کچھ نہیں دیتے ہیں۔

ترکی کاشام میں نئی کارروائی کا منصوبہ

سینیرسفارت کار نے کانگریس کے روبرو بیان میں امریکا کے اس خدشے کا بھی اظہار کیا کہ ترکی شمالی شام میں ایک نیا حملہ کرسکتا ہے اور اس کے خلاف واشنگٹن نے خبردارکیا ہے۔

باربرا لیف نے کہا کہ ہمیں شام کے شمال میں ممکنہ فوجی اقدامات کے بارے میں ترکی کی جانب سے حالیہ بڑھتی ہوئی بیان بازی پرگہری تشویش لاحق ہے۔

انھوں نے کہا کہ ہم نے ترکی کے اس حملے کو روکنے کے لیے اپنی سفارتی کوششیں تیزکردی ہیں۔یہ پوچھے جانے پرکہ کیا انقرہ امریکی کوششوں کی روشنی میں اس طرح کے ارادے کوترک کر دے گا، لیف نے جواب میں کہا:’’میں آپ کو یہ یقین دہانی نہیں کرا سکتی کہ وہ (ترک) جا رہے ہیں‘‘۔

ترکی نے مئی کے آخرسے بار بار دھمکی دی ہے کہ وہ کردجنگجوؤں کو نشانہ بنانے کے لیے شمالی شام میں ایک نیا فوجی آپریشن شروع کرے گا۔اس کے ممکنہ حملے کا ہدف کردملیشیا پیپلزپروٹیکشن یونٹس (وائی پی جی) بھی شامل ہے۔اس نے شام میں داعش کے خلاف جنگ میں اہم کردار ادا کیا تھا اور امریکا کی قیادت میں بین الاقوامی اتحاد کی حمایت حاصل تھی۔

واشنگٹن نے ترکی کو باربارشام میں اس طرح کی جارحیت کے خلاف متنبہ کیا ہے۔اس کے بارے میں اس کا خیال ہے کہ اس سے خطہ غیرمستحکم ہوگا اور یہ جہادیوں کے خلاف جدوجہد کو خطرے میں ڈالنے کے مترادف ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں