ایران جوہری معاہدہ

ایران جوہری مذاکرات کو خطرے سے دوچارکررہا ہے،مزیدالگ تھلگ ہوسکتا ہے:امریکا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

امریکی وزیرخارجہ انٹونی بلینکن نے ایران کو خبردار کیا ہے کہ اگر اس نے اقوام متحدہ کے تحت جوہری نگران ادارے کے ساتھ تعاون نہیں کیا تو وہ دنیا میں سیاسی اور معاشی طور پر مزید الگ تھلگ ہوسکتا ہے۔

بلینکن نے جمعرات کو ایک بیان میں کہا کہ ایران کو بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی(آئی اے ای اے)کے ساتھ تعاون کرناچاہیے اوراس کے سوالات کے جواب میں تکنیکی طورپرقابل اعتماد معلومات فراہم کرنی چاہییں۔یہی بورڈ کے ایجنڈے سے اس کی جوہری تنصیبات کے تحفظ کے معاملے کوہٹانے کا واحد طریقہ ہے۔

بدھ کے روز آئی اے ای اے نے امریکا اوراس کے یورپی اتحادیوں کی جانب سے پیش کردہ ایک قرارداد کی منظوری دی ہے جس میں ایران سے مطالبہ کیا گیا تھا کہ وہ ایجنسی کے حوالے سے اپنی قانونی ذمہ داریوں کو پورا کرنے کے لیے ’’فوری بنیاد پر‘‘کارروائی کرے۔

ایران کی مذمت میں اس قرارداد کے حق میں ادارے کے 35 ارکان پر مشتمل بورڈ آف گورنرز میں سے 30 نے ووٹ دیا تھا۔صرف چین اور روسنے اس اقدام کے خلاف ووٹ دیا تھا۔ان کا مطالبہ ہے کہ تہران ملک بھر میں تین مختلف مقامات سے ملنے والے جوہری مواد کے نشانات کے بارے میں سوالات کا جواب دے۔

لیکن بلینکن نے کہاکہ آئی اے ای اے کا معاملہ 2015 میں طے شدہ مگراب متروک جوہری معاہدے کی بحالی کی واشنگٹن کی کوششوں سے الگ ہے اورامریکا مشترکہ جامع لائحہ عمل (جے سی پی او اے) میں باہمی واپسی کے لیے پرعزم ہے۔

ان کے بہ قول اس طرح کا معاہدہ مارچ سے دستیاب ہے لیکن ہم صرف اسی صورت میں مذاکرات مکمل کرسکتے ہیں اور اس پر عمل درآمد کر سکتے ہیں جب ایران اپنے اضافی مطالبات کو ختم کر دے جو جے سی پی او اے سے ماورا ہیں اور اس کے دائرہ کار میں نہیں آتے ہیں۔

دوسری جانب ایران مسلسل یہ مطالبہ کررہا ہے کہ اگرامریکا 2015 کے معاہدے میں دوبارہ شامل ہونا چاہتا ہے تو وہ اس کی سپاہ پاسداران انقلاب کو دہشت گردی کی بلیک لسٹ سے ہٹا دے۔ ایران کے لیے امریکا کے خصوصی ایلچی روب ملی کی جانب سے اس تجویز پرکھلے پن کی اطلاع کے باوجود صدر جو بائیڈن نے ایسے مطالبات کو مسترد کردیا ہے۔

آئی اے ای اے کے فیصلے کے بعد ایران نے کہا کہ وہ ملک کے اندر20 سے زیادہ نگران کے کیمرے بند کر دے گا۔ بلینکن نے کہا کہ اس سے ایران کی جانب سے مزید جوہری اشتعال انگیزی کو خطرہ لاحق ہونے کا اشارہ ملتا ہے اور جوہری معاہدے میں واپسی کی کوششیں پیچیدہ ہوجائیں گی۔

انھوں نے کہا کہ اس طرح کے انتخاب کا واحدنتیجہ ایران کے لیے سنگین جوہری بحران اور مزید معاشی اور سیاسی تنہائی ہوگا۔ اسی لیے ہم ایران پر سفارت کاری کا انتخاب کرنے اور اس کے بجائے کشیدگی کم کرنے کے لیے دباؤ ڈالتے رہتے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں