ایران کا 27 کیمرے بند کرنے کااقدام جوہری معاہدے کے لیے ’مہلک دھچکا‘ ہوگا: گروسی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) کے سربراہ رافیل گروسی نے اطلاع دی ہے کہ ایران اپنی جوہری تنصیبات پر نصب 27 نگران کیمرے ہٹا رہا ہے۔انھوں نے اس اقدام کو ایران میں اقوام متحدہ کے نگرانی کے کام کے لیے ایک سنگین چیلنج قرار دیا ہے۔

انھوں نے جمعرات کو صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا:’’ہمیں مطلع کیا گیا ہے کہ ایران 27 کیمروں کو ہٹا رہا ہے۔یقیناً یہ وہاں کام جاری رکھنے کی ہماری صلاحیت کے لیے ایک سنگین چیلنج ہے‘‘۔

گروسی نے واضح کیا کہ اگراس مسئلے کا حل تین سے چار ہفتے میں نہیں نکالا گیا تو یہ ’’ایک مہلک دھچکا‘‘ ہوگا۔

ایران نے رواں ہفتے اعلان کیا تھا کہ وہ بدھ کے روز مغرب کی مذمتی قرارداد کے ردعمل میں اپنی جوہری تنصیبات کی نگرانی کے لیے آئی اے ای اے کے کچھ کیمروں کو بند کررہا ہے۔

تہران نے جمعرات کو ویانا میں منظورکردہ قرار داد کے مسودے کو غیرتعمیری قرار دیتے ہوئے اس کی مذمت کی ہے۔

گروسی نے بتایا کہ ایران میں قریباً 40 کیمرے ابھی باقی ہیں۔میں ایرانیوں کو دعوت دیتا ہوں کہ وہ فوری طور پرمجھ سےبات چیت کریں کیونکہ ہم بہت کشیدہ صورت حال میں ہیں۔

انھوں نے سوالیہ انداز میں کہا کہ کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ اختتامی لکیر ہے؟ میرے خیال میں ایسا نہیں ہونا چاہیے۔ ابھی نہيں... مگرہم امید کرتے ہیں کہ جذبات تھوڑا سا نیچے جائیں گے‘‘۔

ویانا میں آئی اے ای اے کے بورڈ آف گورنرز میں امریکا، برطانیہ، فرانس اور جرمنی کی جانب سے پیش کردہ قرارداد جون 2020 کے بعد ایران پر پہلی تنقیدی قرارداد ہے۔بورڈ آف گورنرز کے 35 ارکان میں سے 30 نے اس کی منظوری دی تھی اور صرف روس اور چین نے اس کے خلاف ووٹ دیا تھا۔

اس میں ایران سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ اقوام متحدہ کے جوہری نگران ادارے کے تعلق سے اپنی قانونی ذمہ داریوں کی تکمیل کے لیے’’فوری بنیادوں پر‘‘کارروائی کرے۔ویانا میں بدھ کو امریکی سفیرلورا ہولگیٹ نے بورڈ آف گورنرز کے اجلاس میں کہا کہ یہ ضروری ہے کہ ایران آئی اے ای اے کے سوالات سے متعلق تمام ضروری معلومات اور دستاویزات فراہم کرے۔

انھوں نے خبردار کیا کہ’’ اگرایران نے تازہ قرارداد کے جواب میں شفافیت میں کمی کی تو یہ ان سفارتی نتائج کے برعکس ہوگا جن کی امریکا تلاش میں ہے‘‘۔انھوں نے کہا کہ آئی اے ای اے کی جوہری تنصیبات تک رسائی کو محدود کرنے اور اس ادارے کو صرف اپنے کام کی وجہ سے سیاست زدہ بنانے کی کوششوں سے کوئی مقصد حاصل نہیں ہوگا۔

امریکی سفیرکا کہنا تھا کہ’’ایران کو آئی اے ای اے کے ساتھ تعاون کرنا چاہیے تاکہ وہ مزیدتاخیر کے بغیراپنی تصدیق اور نگرانی کے مینڈیٹ کو پورا کر سکے۔ہم کشیدگی میں اضافہ نہیں چاہتے۔اس کے بجائے ہم ایران کی قانونی ذمہ داریوں کے مطابق قابل اعتماد وضاحتیں چاہتے ہیں اور وہی بالآخرہمیں ان مسائل سے چھٹکارا دلا سکتی ہیں‘‘۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں