’باہمت معلمہ جس نے دونوں ہاتھوں اور پاؤں کے کٹ جانے پربھی اپنا مشن جاری رکھا‘

ہاتھ ،پاؤں کٹ جانے پرلگا کہ میں بے کارچیز بن گئی ہوں،مگرہمت نہیں ہاری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

جب تین سال قبل گینگرین کی وجہ سے ہندوستانی خاتون ٹیچر پرتیبھا حلیم کے ہاتھ اور پاؤں کاٹے گئے تھے تو یہ ان کے لیے انتہائی تکلیف دہ اور مشکل مرحلہ تھا، مگر وہ اس خوفناک آزمائش سےگذر کرایک بار پھراپنے پیشے سے جڑ گئی ہیں اور بچوں کو پڑھانا شروع کردیا ہے۔

51 سالہ پرتیبھا بمبئی کے مشرق میں دور افتادہ گاؤں کرہی میں چھوٹے بچوں کو پڑھاتی ہیں جہاں تعلیمی مواقع بہت کم ہیں۔ کمرہ جماعت میں جب اُنہیں قلم یا چاک پکڑنا ہوتی ہے تو وہ قلم یا چاک کو اپنے کٹے بازو سے باندھ لیتی ہیں۔

پرتیبھا نے ’اے ایف پی‘ کو بتایا کہ "میں بچوں سے پیار کرتی تھی اور اب بھی کرتی ہوں، اگر میں بے کار بیٹھی رہتی تو میں اب کسی دوسری دنیا میں ہوتی۔ جو میرے ساتھ ہوا اسے مسلسل یاد کر رہی ہوتی"۔

سنہ 2019 میں پرتیبھا پرڈینگی بخار کا شدید حملہ ہوا اور اس کی حالت گینگرین کی وجہ سے خراب ہوگئی۔ جس کی وجہ سے اس کے دائیں ہاتھ کو کاٹنا پڑا۔ چند ہفتوں بعد سرجنوں کو اس کا بایاں ہاتھ کاٹنا پڑا۔ پھر دونوں ٹانگیں گھٹنوں کے نیچے کاٹنا پڑیں۔

باہمت معملہ نے کہا کہ "جب انہوں [ڈاکٹروں] نے میرا ایک ہاتھ کاٹا تو میں مستقبل میں کچھ کرنے کی صلاحیت کی امید کھو بیٹھی۔ میں افسردہ ہو گئی۔ میں نے آٹھ دن تک کسی سے بات نہیں کی"۔

لیکن پرتیبھا نے ایک بار پھر محسوس کیا کہ اس کی زندگی اس کے خاندان کے تعاون سے دوبارہ پڑھانے کی بدولت قیمتی ہونے لگی ہے۔ خاندان نے صحت یابی کے دوران انہیں دوبارہ بچوں کو پڑھانےکی ترغیب دی۔

گھر میں سبق

سنہ 2020 میں جب COVID-19 وبائی امراض کی وجہ سے اسکول بند ہوگئے تھےتو پرتیبھا نے ایک مقامی پرائمری اسکول میں جس میں انہوں نے تین دہائیوں تک کام کیا تھا کے طلبا کو گھروں میں پڑھانا شروع کیا۔ اس سے ان طلبا کو فائدہ پہنچا جن کے والدین آن لائن تعلیم کے ذرائع سے استفادے کے اہل نہیں تھے۔

اگرچہ اسکولوں نے چند ماہ قبل حاضری کے اسباق دوبارہ شروع کیے تھے، لیکن گاؤں کے 40 بچے پرتیبھا کے اسباق میں حصہ لیتے رہے۔

کسان ایکناتھ لکشمن ہارویٹ جن کی بیٹی باقاعدگی سے پرتیبھا کے اسباق میں جاتی ہے نے کہا کہ ان کے بچے "پڑھائی سے محبت کرتے ہیں"۔

بہت سے بچوں کی طرح ہارویٹ کو بھی نوعمری میں ہی اسکول چھوڑکر کام پر جانا پڑا کیونکہ اس کے خاندان کے پاس اس کی تعلیم کے لیے پیسے نہیں تھے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ وہ اپنے بچوں کا بہتر مستقبل چاہتے ہیں۔

انہوں نے زور دے کر کہا کہ وہ اپنی بیٹی کو "جتنا وہ چاہے" تعلیم فراہم کرنے کے لیے تیار ہیں۔ میری خواہش ہے کہ بچے پڑھیں۔ مُجھے دکھ ہے کہ گھر میں مسائل کی وجہ سےمجھےتعلیم چھوڑ کر کھیتوں میں کام پرجانا پڑا"۔

اپنے بیشترشاگردوں کی طرح پرتیبھا حلیم کا تعلق بھی آدیفازی طبقے سے ہے جس میں ہندوستان کے مقامی لوگوں کے تمام قبائل شامل ہیں۔

یہ طبقہ سخت امتیازی سلوک کا شکار ہےاور ہندوستان کی معاشی خوشحالی میں شامل نہیں ہیں کیونکہ وہ عام طور پر دور دراز اور الگ تھلگ علاقوں میں رہتے ہیں۔ کرھی کے بہت سے خاندان اپنے بچوں کو کام کرنے کے لیے اسکول سے نکال لیتے ہیں۔

پرتیبھا نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ"ایک بار جب بچے جب معمولی لکھ پڑھ لیتے ہیں تو والدین انہیں اسکول سے نکال لیتے ہیں اور انہیں کھیتوں میں کام پر لگا دیتے ہیں‘‘۔

معذورمعلمہ بچوں کو پڑھنے اور سیکھنے کا عمل جاری رکھنے کی ترغیب دینے کی کوشش کرتی ہیں تاکہ ایک دن وہ اپنی قسمت کا فیصلہ خود کر سکیں۔ پرتیبھا فی الحال مصنوعی آلات لگوانے کا انتظار کر رہی ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ میں نے اپنے اعضاء کے کٹنے کے بعد سوچا کہ میں اب کسی چیز کے قابل نہیں رہی، لیکن میں نے جلد ہی ایک پختہ فیصلہ کر لیا کہ میں سب کچھ کر سکتی ہوں اور میں سب کچھ کروں گی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں