امریکی کانگریس؛ مشرق وسطی میں اتحادیوں کے لیے مربوط دفاعی نظام کی کوشش شروع

ایران اور اس کی "پراکسیز" کو کنٹرول کیا جائے گا: امریکی سینیٹر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

چھ خلیجی ریاستوں اور اسرائیل سمیت کئی عرب اتحادی ممالک کو ایک مربوط فضائی نظام کے نیچے لانے کے لیے امریکی کانگریس کے دونوں ایوانوں میں ملتے جلتے بل پیش کر دیے گئے۔

سینیٹ میں پیش کیا گیا بل ری پبلکن اور ڈیموکریٹ ارکان نے مشترکہ طور پر پیش کیا تاکہ ایران کو کنٹرول کرنے، اپنے اتحادیوں اور شراکت دار ملکوں کو ایران یا اس کی ''پراکسیز'' سے بھی محفوظ بنایا جائے، نیز خطے میں موجود امریکی فوجیوں اور شہریوں کا تحفظ بھی بہتر بنایا جا سکے۔

مبصرین کا خیال ہے امریکی سینیٹرز کی اس مشترکہ کوشش کے نتیجے میں مشرق وسطی میں امریکی پالیسی کے بڑے دور رس اثرات سامنے آئیں گے۔ دوسری جانب خطے میں امریکہ اپنی فوجی موجودگی کے معاملے کو بھی از سر نو دیکھ سکے گا کہ اس کا فوجی حجم خطے میں کیا ہونا چاہیے اور کتنا نہیں ہونا چاہیے۔

کیونکہ امریکی کانگریس کے ممبران ایران کی ڈرون صلاحیت میں تیز اضافہ کو اپنے مفادات کے لیے بھی خطرے کے طور پر دیکھتے ہیں اور خطے میں امریکی سویلین اور فوجیوں کو خطرے میں نہیں دیکھنا چاہتے۔

اس سلسلے میں ریپبلکن سینیٹر اور ڈیمو کریٹ سینیٹر نے قانون سازی کے لیے کوششیں شروع کر دی ہیں۔ ری پبلکن سینیٹر جونی ارنسٹ اور ڈیموکریٹ سینیٹر جیکی روزن کی ان کوششوں کے ہدف میں یہ بھی شامل ہے کہ پینٹا گون امریکی اتحادیوں اور شراکت داروں کے ساتھ مل کر ایک ایسے میزائل سسٹم کو ڈیزائن کرے اور عملی جامہ پہنائے جس کے ذریعے تمام متعلقہ ممالک کو ایک ہی مربوط میزائل سسٹم سے محفوظ بنا یا جا سکے۔ امریکی سینیٹرز نے اس بل کو ''ڈیٹرنگ اینمی فورسز اینڈ انیبلنگ نیشنل ڈیفنس ایکٹ 2022" بل کا نام دیا ہے جسے مختصرا "ڈیفنڈ ایکٹ" کا نام دیا گیا ہے۔

ری پبلکن سینیٹر جونی ارنسٹ نے کیپٹل ہل میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا "یہ قانون ایران کو کنٹرول کرنے اور علاقے میں اس کے مسلسل ہوتے رہنے والے حملوں کا رد کر سکے گا کیونکہ ان ایرانی حملوں سے امریکی شراکت دار ممالک کی سلامتی متاثر ہو رہی ہے۔ ہمارے سیکورٹی حکام جو متعلقہ علاقے کے اندر اور اس کے آس پاس تعینات ہیں ان کی وجہ سے خود امریکہ کو خطرات لاحق ہیں۔"

سینیٹر ارنسٹ کا مزید کہنا تھا "انتہا پسند اسلام اور دہشت گردانہ کارروائیوں کا مقابلہ کرنے کے لیے ضروری ہے کہ امریکہ مشرق وسطی میں اپنے اتحادیوں کو اسرائیل کی طرف سے لاحق خطرات اور اس کی"پراکسیز" کے مقابلے کے قابل بنا سکے۔"

معاہدہ ابراہیم کے بارے میں انہوں نے کہا وہ سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کرایا تھا۔ تاکہ امریکہ، اسرائیل اور مشرق وسطی میں امریکی اتحادیوں کے درمیان توانائی، معیشت، ثقافت اور آمدو رفت کے حوالے سے تعاون اور بہتری ہو۔"

سینیٹر جونی ارنسٹ نے مزید کہا ہماری اس دو طرفہ کوشش کا مقصد خلیجی ممالک اور ان سے جڑے ممالک جن میں عراق، اسرائیل، اردن اور مصر بھی شامل ہیں اور وہ ممالک جن کی نشاندہی امریکہ کے سیکرٹری آف ڈیفنس نے کی ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ اس بارے میں پینٹا گون ایک حکمت عملی بنائے۔ اپنی رائے دے کہ کس طرح کے چیلنجوں کا سامنا ہے اور سکیورٹی کی کیا سٹریٹجی ہو سکتی ہے۔ پینٹا گون کی طرف سے چیزیں سامنے لانا اس بل کا بھی تقاضا ہیں۔

یہ بھی بل کی ضرورت ہے کہ اس سلسلے میں وسائل کی فراہمی کے بارے میں وضاحت شامل ہو کہ امریکہ کی طرف سے فنڈز فراہمی کی صورت کیا ہو گی اور دیگر امکانی "سٹیک ہولڈرز" اس مشترکہ دفاعی میزائل سسٹم کے لیے کیا ذمہ داری لیں گے۔ تاکہ ایک مربوط دفاعی نظام تشکیل پا سکے۔

سینیٹر ارنسٹ نے کہا "ہمیں اس بارے میں بھی حتمی طور پر یقین ہے کہ کانگریس قومی سلامتی کے لیے اس ارادے کے حوالے سے ایران اور اس کی "پراکسیز" کی جانب سے خطرات کو دیکھے تاکہ خطے میں اپنے اتحادیوں اور شراکت داروں کی سلامتی اور تعاون کی راہیں کھلیں۔"

ڈیمو کریٹ سینیٹر روزن نے اس بل پر بات کرتے ہوئے کہا اس کی منظوری سے مشرق وسطی میں اجتماعی سلامتی میں بہتری آئے گی کہ ایران اور اس کی "پراکسیز" بے شمار لوگوں کی جان لے رہی ہیں۔ ان میں سویلینز بھی شامل ہیں اور فوجی بھی۔ اس پر مستزاد یہ ہے کہ ایران کے مسلح ڈرونز کی صلاحیت میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔

دوسری جانب ایوان نمائندگان میں بھی اسی طرح کا ایک بل پیش کیا گیا ہے اور پینٹا گون سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ کانگریس میں ایک رپورٹ پیش کرے جس میں یہ تخمینہ بھی شامل ہو کہ مشرق وسطی کے لیے ایک مربوط دفاعی نظام جس میں ڈرون سسٹم، کروز میزائل، بلیسٹک میزائل راکٹ سمیت سب چیزوں کا جائزہ شامل ہو۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں