روس اور یوکرین

ارسولاوون کا زیلنسکی سے یوکرین کی یورپی یونین میں شمولیت کی درخواست پرتبادلہ خیال

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

یورپی کمیشن کی صدر ارسولا وون ڈیرلیئن نے ہفتے کے روز یوکرین کا دورہ کیا اور صدرولودی میرزیلنسکی سے ان کی ملک کی یورپی بلاک میں شمولیت سے متعلق درخواست پرتبادلہ خیال کیا ہے۔

وون ڈیرلیئن نے کیف پہنچنے پر ٹویٹ کیا کہ ’’صدر زیلنسکی کے ساتھ میں تعمیرنو کے لیے درکار مشترکہ کام اور یوکرین کی جانب سے یورپی یونین میں شمولیت کی کوشش پرپیش رفت کا جائزہ لوں گی‘‘۔

فروری میں روس کے حملے کے فوراً بعد یوکرین نے یورپی یونین میں شمولیت کی درخواست دی تھی، اس کے باوجود مغرب میں کچھ ممالک اسے امیدوار کا درجہ دینے سے بھی ہچکچا رہے ہیں کیونکہ وہ رُکنیت کے لیے تیز رفتار ٹریک کے امکان سے بچنا چاہتے ہیں۔

گذشتہ ماہ فرانسیسی صدرعمانوایل میکرون نے کہا تھا کہ یوکرین جیسےامیدوار کو یورپی یونین میں شمولیت میں ’’دہائیاں‘‘لگیں گی۔انھوں نے ایک وسیع ترسیاسی کلب کی تشکیل کی تجویزپیش کی تھی جس میں برطانیہ بھی شامل ہوسکتا ہے جس نے 2020ء میں یورپی یونین کو خیرباد کَہ دیا تھا۔

یوکرین کو باضابطہ طورپرامیدوار کے طورپرقبول کرنا یورپی یونین کے 27 رکن ممالک کا مشترکہ فیصلہ ہوگا اور وہ وون ڈیرلیئن کے زیرقیادت یورپی کمیشن کے ماہرانہ مشورے پر عمل پیرا ہوں گے۔یہ کمیشن ہی پیچیدہ اور ممکنہ طورپرطویل الحاق کے عمل کی نگرانی کرے گا۔

یوکرین کوتنظیم میں شمولیت کے لیے خاص طور پر حکمرانی کے سخت معیارات پرپورا اُترنا ہوگا، بدعنوانیوں کا خاتمہ کرنا ہوگا اورقانون کی حکمرانی کا اطلاق کرنا ہوگا۔ اس کے بعد ہی اسے یورپی بلاک میں رکن کے طور پر قبول کیا جا سکے گا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں