بچھو پر ٹیکس ’کیا یہ ممکن ہے؟‘ سوڈان کے عوامی حلقوں میں نئی بحث

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

سوڈان میں سانپوں، کتوں اور بازوں کے علاوہ بچھو جیسے زہریلے حشرات پر بھی ٹیکس لگانے کا ایک متنازعہ فیصلہ نافذ کیا گیا ہے۔

ایسا لگتا ہے کہ معاشی مشکلات نے ملک کے ٹیکس آفس کو اس قانون کو فعال کرنے پر مجبور کیا۔ یہ قانون منظور تو پہلے ہو چکا تھا مگر اس کا نفاذ نہیں کیا گیا تھا۔ اس ایکٹ کے نفاذ سے سوڈانیوں میں کھلبلی مچ گئی۔

حکومت نے زرعی اجناس، جانوروں اور سبزیوں سمیت ہر قسم کے کاروباری مالکان اور زرعی کمپنیوں کے لیے ٹیکس کیٹیگریز کا تعین کرنے کا فیصلہ جاری کیا۔

مذکورہ فیصلے میں جانوروں کی مصنوعات جیسے بچھو، سانپ، فالکن اور کتوں پر 2 فیصد ٹیکس عائد کرنے کی شرط رکھی گئی تھی۔

بچھو [آئی سٹاک]
بچھو [آئی سٹاک]

جبکہ ٹیکس آفس کے سینئر ذرائع نے مذکورہ فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے ’العربیہ ڈاٹ نیٹ‘ کو بتایا کہ یہ کوئی نئی بات نہیں ہے۔ ایسی فوری ضرورتیں ہیں جن کے لیے ہمیں ٹیکس کے نیٹ ورک کو وسعت دینا ہوتی ہے۔ اس طرح ہم مالی بحران اور بجٹ خسارے کو کم کر سکتے ہیں۔

اُنہوں نے مزید بتایا کہ ان مصنوعات پرٹیکس کئی سالوں تک "زیرو ویلیو" رہا لیکن نئی پیش رفت سامنے آئی جس پر حکومت کو یہ ٹیکس لگانے پر مجبور ہونا پڑا۔

قابل ذکرہے کہ سوڈانی حکام نےگذشتہ برسوں کے دوران خرطوم ہوائی اڈے سے بیرون ملک 200 کلو گرام مردہ بچھو اسمگل کرنے کی کوششیں ناکام بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔ یہ بچھو ایک ایشیائی ملک بھیجے جا رہے تھے، تاکہ ان کی زہر کو ادویہ کی تیاری کے لیے استعمال کیا جا سکے۔ اس وقت بچھو کی خرید وفروخت پر ٹیکس نہیں تھا تاہم یہ کارروائیاں جنگلی حیات کے تحفظ کے قانون پر عمل درآمد کے تحت کی گئی تھیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں