سعودی عرب کا’سیفر‘آئل ٹینکرسے لاحق مسائل سے نمٹنے کے لیے ایک کروڑڈالرکا عطیہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

سعودی عرب کے شاہ سلمان انسانی امداد اور ریلیف مرکز (کے ایس ریلیف) نے یمن کی بندرگاہ الحدیدہ پرلنگرانداز تیل بردار ٹینکر’’سیفر‘‘سے پیدا ہونے والے ماحولیاتی اور معاشی خطرات سے نمٹنے کے لیے ایک کروڑ ڈالرعطیہ کے طور پر دینے کا اعلان کیا ہے۔

کے ایس ریلیف نے اتوار کوایک بیان میں کہا کہ مملکت نے ہمیشہ یمن میں لنگرانداز ٹینکر سے پیدا ہونے والے معاشی، انسانی اور ماحولیاتی خطرات سے نمٹنے کے لیے اقوام متحدہ کی کوششوں کی حمایت کی ہے۔

اس جہاز سے سمندر میں تیل کے بڑے رساؤ کا خطرہ ہے۔اس سے ماحولیات، آبی حیات اور جہاز رانی کے لیے تباہ کن مسائل پیدا ہوسکتے ہیں جس کے نتیجے میں بحیرہ احمرکے ساحل کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچ سکتا ہے۔

کسی حادثے کی صورت میں ماہی گیربرادری، بین الاقوامی جہازرانی اور یمن کو ایندھن اور خوراک جیسی ضروری اشیاء کی جہازوں کے ذریعے ترسیل سمیت سب متاثر ہوں گے۔اس سے ممکنہ طور پر یمن اور خطے میں انسانی صورت حال مزید خراب ہوجائے گی اوربحیرہ احمر کے ساحل پرواقع تمام ممالک کو خطرہ لاحق ہو جائے گا۔

کے ایس ریلیف نے بیان میں کہا ہے کہ آج مملکت کی طرف سے جو ایک کروڑ امریکی ڈالر مہیا کیے جارہے ہیں،ان سے اقوام متحدہ کی تنظیموں کی کوششوں میں مددملے گی تاکہ ’’سیفر‘‘ٹینکر سے پیدا ہونے والے ممکنہ خطرات کی نشان دہی اور ان سے نمٹنے کے لیے ایک مؤثرمنصوبہ تیار کیا جا سکے۔

اس نے کہا کہ مملکت اقوام متحدہ سے مطالبہ کرتی ہے کہ وہ ٹینکر سے تیل کے رساؤ کوروکنے کے لیے فوری طورپرضروری اقدامات کرے اور یا تو تیل کو محفوظ جگہ منتقل کرے یا اسے یمنی عوام کو فائدہ پہنچانے کے لیے استعمال کرے۔ نیزسعودی مملکت عالمی برادری سے مطالبہ کرتی ہے کہ وہ اس اقدام کی حمایت میں فوری تعاون کرے تاکہ ماحولیاتی تباہی کی سنگین صورت حال سے روکا جا سکے۔

کے ایس ریلیف نے اس بات کا اعادہ کیا کہ سعودی عرب نے بحیرہ احمر میں لنگرانداز آئل ٹینکر سے پیدا ہونے والے خطرات اور آنے والی ماحولیاتی تباہی کے بارے میں عالمی برادری کو باربارمتنبہ کیا ہے۔

اس ’’سیفر‘‘ ٹینکر میں دس لاکھ بیرل سے زائد تیل موجود ہے اور 2015 میں خراب ہونے کے بعد سے یہ یمن کی بندرگاہ پرلنگرانداز ہے۔ تب سے اس کی دیکھ بھال اور ضروری مرمت نہیں کی گئی ہے۔

سعودی انسانی امدادی تنظیم کا کہنا تھا کہ وہ دنیا کے سمندروں کے تحفظ کے حوالے سے بین الاقوامی سطح پر ہونے والی پیش رفت پر عمل پیرا ہے۔اس کی وسیع ترتوجہ اہم ترین عالمی سمندری وسائل اور ماحولیاتی نظام کے تحفظ پرمرکوز ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں