ایران نے روسی اشیاء بھارت بھیجنے کے لیے نیا تجارتی راستہ تلاش کرلیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ایرانی بندرگاہوں کی وزارت کے ایک افسر کے مطابق ایران کی سرکاری شپنگ کمپنی نے کہا ہے کہ اس نے ملک کے ایک ٹرانزٹ کوریڈور کو ایک نئے تجارتی کوریڈور کے طور پر استعمال کرکے، روسی اشیاء کی پہلی کھیپ بھارت کو منتقل کرنے کا کام شروع کردیا ہے۔

اسلامی جمہوریہ ایران کی خبر رساں ایجنسی ’’ایرنا‘‘نے استرخان میں ایرانی روسی مشترکہ ٹرمنل کے ڈائریکٹر دریوش جمالی کے حوالے سے بتایا کہ روسی کارگو، 41 ٹن وزنی 40 فٹ کے دو لیمنیٹ شیٹس کے کنٹینر کے ساتھ ہفتے کے روز سینٹ پیٹرز برگ سے استرخان شہر کے لیے روانہ ہو گیا۔

رپورٹ میں گوکہ اس روانگی کو ٹرانزٹ کوریڈور سے ابتدائی تجرباتی منتقلی قرار دیا گیا ہے تاہم یہ واضح نہیں کیا گیا ہے کہ جہاز کب روانہ ہوا اور نہ ہی جہاز پر رکھے گئے دیگر سازوسامان کی تفصیلات بتائی گئی ہیں۔

ارنا نے بتایا کہ استرخان سے یہ کارگو بحیرہ کیسپین کو پار کرتے ہوئے شمالی ایران کی بندرگاہ انزلی پہنچے گا اور اسے خلیج فارس میں بندر عباس بندرگاہ کے لیے سڑک کے راستے منتقل کیا جائے گا۔ وہاں سے اسے ایک دوسرے جہاز پر منتقل کیا جائے گا اور بھارتی بندرگاہ نہوا شیوا بھیج دیا جائے گا۔

نیا ٹرانزٹ کوریڈور کیا ہے؟

ایرانی روسی مشترکہ ٹرمنل کے ڈائریکٹر دریوش جمالی نے بتایا کہ روسی اشیاء کی منتقلی اسلامی جمہوریہ ایران کی سرکاری جہاز رانی کمپنی کے تعاون سے اور دیکھ ریکھ میں ہورہی ہے۔ اس کمپنی کے روس اور بھارت میں علاقائی دفاتر واقع ہیں اور یہ سامان بھارت پہنچنے میں 25دن لگ سکتے ہیں۔

چونکہ یوکرین پر روس کے فوجی حملے کے بعد ماسکو پر پابندیاں عائد کردی گئی ہیں۔ اس کے بعد سے ہی ایرانی حکام شمال جنوب ٹرانزٹ کوریڈور کے معطل پروجیکٹ کو بحال کرنے کی کوششیں کررہے تھے۔

اس کوریڈور کا استعمال ایران روس کو ایشیائی منڈیوں سے جوڑنے کے لیے کرتا ہے۔

اس منصوبے میں ایک ریل روڈ تعمیر کرنا بھی شامل ہے جس سے ایران کے بحیرہ کسپیئن کی بندرگاہوں تک پہنچنے والی اشیاء کو جنوب مشرقی چابہار بندرگاہ تک منتقل کیا جا سکے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں