بدنام زمانہ گوانتا نامو جیل میں قیدیوں کو پہلی بار کیسے لایا گیا؟ تصاویر منظر عام پر

قیدیوں کو حراستی مرکز لائے جانے کی یہ تصاویر پہلی بار سامنے آئی ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

بیس سال سےامریکی فوج کے گوانتاناموبے میں قائم بدنام زمانہ حراستی مرکز اوراس میں قیدیوں پر ڈھائے جانے والے مظالم کے بارے میں خبریں سامنے آتی رہی ہیں مگر جیل کے اندر کے حالات کے تصویری مناظر کم ہی دنیا کے سامنے آئے۔

مشتبہ دہشت گردوں کو دُنیا کے مختلف ملکوں سے پکڑ کرجزیرہ گوانتا نامو لانے کے لیے قیدیوں کو کئی ظالمانہ مراحل سے گذارا جاتا تھا۔ جیل میں ڈالے جانے کے بعد بعض قیدی بھوک ہڑتال کرتے توانہیں زبردستی خوراک دی جاتی، مگر اس حربے کے مناظر بھی سامنے نہیں آسکے۔

امریکی خبار ’نیویارک ٹائمز‘ نے پہلی بار گوانتا نامو حراستی مرکز میں قیدیوں کی منتقلی کے وقت کے لمحات تصاویر کی شکل میں شائع کیے ہیں۔

امریکی اخبار کی رپورٹ کے مطابق سنہ 2011 میں ’وکی لیکس‘ نے خفیہ معلومات کی فائلوں سے کچھ قیدیوں کی خفیہ تصاویر شائع کی تھیں اور وکلاء نے اپنے مؤکلوں کی کچھ تصاویر فراہم کیں جو انٹرنیشنل کمیٹی آف ریڈ کراس نے لی تھیں، لیکن 11 ستمبر 2001 کے حملوں کے چند مہینوں بعد گوانتانامو میں قیدیوں کی آمد شروع ہونے کے بعد سے ان قیدیوں میں سے چند ایک کی نیم برہنہ تصاویر سامنے آئی تھیں۔

اب فریڈم آف انفارمیشن ایکٹ کا استعمال کرتے ہوئے اخبار نے نیشنل آرکائیوز سے افغانستان سے کیوبا کے گوانتانامو بےکی جیل میں لائے گئے پہلے قیدیوں کی اصل تصاویر حاصل کی ہیں۔

یہ تصاویر فوجی فوٹوگرافروں نے ڈونلڈ رمزفیلڈ کی قیادت میں سینیر فوجی رہ نماؤں کو منتقل کرنے کے لیے لی تھیں تاکہ گرفتاری اور تفتیش کے عمل کو ابتدائی مراحل میں دکھایا جا سکے۔

بلیک آؤٹ اور تصاویر کولیک ہونے سے روکنے کا عمل اسی دن سے شروع ہوا جب قیدی کیمپ پہنچے۔ ابتدائی طور پر فوج نے ’سی این این‘ اور میامی ہیرالڈ کے نیوز کے فوٹوگرافروں کو قیدیوں کے جیل میں پہنچنے کے لمحات کی تصاویر لینے سے روک دیا اور انہیں اپنے کیمرے پیچھے چھوڑنا پڑے تھے۔

تقریباً ایک ہفتہ بعد محکمہ دفاع نے کیمپ ایکس رے میں گھٹنے کے بل لے جانے والے پہلے 20 قیدیوں کی تصویر تقسیم کی۔ یہ ایک عارضی جیل کیمپ ہے جہاں آپریشن کے ابتدائی مہینوں میں جنگی قیدیوں کو رکھا گیا تھا۔ تاریخی تصاویر بحریہ کے ایک فوٹوگرافر نے لی تھیں اور ابتدائی طور پر صرف پینٹاگان کے کمانڈروں کو دکھانے کے لیے بنائی گئی تھیں۔

جنیوا کنونشن کے تحت کنونشن میں شامل تمام ملک جنگی قیدیوں کو "عوامی تجسس" سے بچانے کے پابند ہیں، لیکن پہلے 20 قیدیوں کی جاری کی گئی تصویرنے پینٹاگان کے اس پیغام کو بھی تقویت بخشی کہ گوانتا نامو قید خانے میں لائے گئے 780 قیدی بدترین دہشت گرد ہیں۔

وقت گذرنے کے ساتھ امریکیوں کا یہ دعویٰ غلط نکلا۔ گوانتانامو جزیرے کے حراستی مرکز میں لائے گئے صرف 18 قیدیوں پر فرد جرم عاید ہوسکی ہے اور ان میں سے صرف پانچ کو امریکی فوجی عدالتوں کی طرف سے سزائیں سنائی گئی ہیں۔

سابق امریکی صدربراک اوباما نےگوانتا نامو جیل بند کرنے کا وعدہ کیا تھا، لیکن کیپٹل ہل پر ریپبلکنز کی مخالفت نے انہیں ایسا کرنے کا موقع نہیں دیا۔

امریکی انتظامیہ نے گوانتا نامو کے حراستی مرکز میں قیدیوں مردوں کی تعداد کو کم کرنے کی کوشش کی۔ ان میں سے 37 افراد کے علاوہ تمام قیدیوں کو ملک بدر کر دیا گیا۔ بعض قیدیوں کو جھوٹی معلومات کے ذریعے گرفتار کرنے کے بعد رہا کر دیا گیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں