سعودی وزیرتجارت کا ڈبلیو ٹی او سے مزید عرب ممالک کی رُکنیت آسان بنانے کا مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

سعودی عرب کے وزیر تجارت نے عالمی تجارتی تنظیم (ڈبلیو ٹی او) سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ دنیا کے ترقی پذیر اور کم ترقی یافتہ ممالک خصوصاً عرب ملکوں کی تنظیم میں شمولیت میں آسانیاں پیداکرے۔

ڈاکٹر ماجد بن عبداللہ القصبی نے سوئٹزرلینڈ کے شہرجنیوا میں ڈبلیو ٹی او کی وزارتی کانفرنس سے تقریر میں یہ مطالبہ کیا ہے۔وہ اتوار کوشروع ہونے والی اس کانفرنس میں مملکت کے وفد کی قیادت کررہے ہیں۔وزراء تجارت کا یہ اجتماع بدھ تک جاری رہے گا۔

سعودی وزیرتجارت نے اقوام متحدہ کے تحت تنظیم کی ڈائریکٹرجنرل ڈاکٹر نگوزی اوکونجو آئیولا کے ساتھ ڈبلیو ٹی او کے عرب رکن ممالک کے اجلاس کی صدارت کی۔

کانفرنس کے موقع پرماجد القصبی نے مصری وزیرتجارت و صنعت نوین جمعہ سمیت مختلف عرب ممالک کے اپنے ہم منصبوں کے ساتھ ملاقاتیں کی ہیں۔ان میں بحرین کے وزیر صنعت و تجارت و سیاحت زید بن راشد الزیانی؛ مراکش کے وزیرصنعت و تجارت ریاض مزور؛ متحدہ عرب امارات کے وزیربرائے خارجہ تجارت عبداللہ المری؛ کویت کے وزیرتجارت فہد بن متلق الشریان اور سوڈان کی وزیر تجارت و رسد ڈاکٹر امل صالح سعد شامل ہیں۔

انھوں نے ان ملاقاتوں میں مذکورہ ممالک کے ساتھ دو طرفہ تجارتی تعلقات اور اقتصادی تعاون بڑھانے کے ممکنہ طریقوں پر تبادلہ خیال کیا ہے۔

سعودی وزیر نے اتوار کو کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ڈبلیو ٹی او دنیا کوکچھ ناکچھ مہیا کرنے میں کامیاب رہا ہے۔انھوں نے اس ضمن میں کووڈ-19 کی وبا کے اثرات کاحوالہ دیا اور ویکسین کی وسیع تر تقسیم کے ساتھ ساتھ عالمی غذائی تحفظ کے بحران سے نمٹنے کی ضرورت پر زوردیا۔

واضح رہے کہ عالمی تجارتی تنظیم 1995ء میں محصولات اور تجارت سے متعلق عمومی معاہدے کے بطن سے تشکیل پائی تھی اور اس نے کئی ایک تنازعات کے بعد آہستہ آہستہ خودکو منوایا ہے۔البتہ امریکی اعتراضات نے اس کے تنازعات کے حل کے نظام کو بڑی حد تک ختم کر دیا ہے۔اس کے اعتراضات اس بات پر مرکوز ہیں کہ نظام کی ساخت کیسے ہو۔

ڈبلیوٹی او نے گذشتہ برسوں میں کوئی بڑا تجارتی معاہدہ تیارنہیں کیا ہے۔اس کے تحت آخری معاہدہ قریباً ایک دہائی قبل طے پایا تھا۔اس میں سرحدوں پرسامان کو کلیئر کرنے کے عمل میں سرخ فیتے کا خاتمہ کیا گیا تھا اور اس سے کم آمدنی والے ممالک کو مددملی تھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں