کیا سوڈان میں معاشی ابتری کے نتیجے میں خاندانی نظام بکھرنے لگا

سوڈان میں طلاق کے چونکا دینے والے اعداد و شمار، وجوہات کیا ہیں؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

سوڈان میں معاشی بحران کی شدت کے ساتھ ملک کے زیادہ تر خاندان ایک مستحکم ذریعہ معاش تلاش کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔

دوسری طرف سوڈانی کی جوڈیشل اتھارٹی نے ملک میں طلاق کے بڑھتے واقعات کے لرزہ خیز اعداد و شمار جاری کیے ہیں۔

جوڈیشل اتھارٹی کی طرف سے جاری کردہ ایک رپورٹ کے مطابق سنہ 2016-2020 کے درمیان ملک میں طلاق کے 271,939 کیسز کا اندراج کیا گیا۔ اقوام متحدہ کا اس سلسلے میں بتانا کہ رواں مہینے سے تقریباً 20 ملین سوڈانی بھوک کا شکار ہوں گے۔ یہ معاشی مشکلات مزید ہزاروں خاندانوں کے درمیان تناؤ اور خواتین کے طلاق کا باعث بن سکتی ہیں۔

سوڈانی معاشرہ طلاق کے معاملے سے نمٹنے کے لیے ہر طرح سے کوشش کر رہا تھا، لیکن اب صورت حال بدل چکی ہے اور یہ دعویٰ عدالتوں میں نمایاں طور پر سامنے آیا ہے۔

دل میں خوشی اور اعلانیہ جشن

سوڈان جیسے سخت گیر معاشرے میں طلاق کے بڑھتے واقعات کے جلو میں ایک خاتون کی حال ہی میں ہونے والی طلاق کی تفصیلات سامنے آئی ہیں۔

مطلقہ (ن) نے"العربیہ ڈاٹ نیٹ" کو بتایا کہ میرے شوہر کے ساتھ اختلافات آخری حد تک پہنچ گئےتھے۔ اس کے باوجود میں نے علاحدگی تک حالات سدھارنے کی سخت جدوجہد کی۔

عجیب صورت حال اس وقت پیش آئی جب (ن) نے طلاق کے بعد ایک عوامی تقریب منعقد کی۔ انہوں نے اپنی دوستوں کو دعوت میں مدعو کیا۔ خاتون نے کہا کہ سابق شوہر سے میرا ایک بچہ بھی ہے مگر سچ یہ ہے کہ طلاق کے بعد میں ایک ڈراوٗنے خواب سے باہر آئی ہوں۔ میرے لیے طلاق خوشی اور جشن کا موقع ہے۔

دارالحکومت خرطوم کی کچھ عدالتوں کے ذرائع نے "العربیہ ڈاٹ نیٹ" کو تصدیق کی ہے کہ طلاق کے لیے خواتین طرف سے درخواستوں میں اضافہ ہوا ہے۔ کچھ برس قبل تک یہ رحجان معمولی تھا۔

موسم گرما میں طلاق کی شرح میں اضافہ

سماجی محقق اشرف ادھم نے سوڈان میں بگڑتے ہوئے معاشی حالات اور دیگر حالات کے تناظر میں طلاق کے واقعات کی وجوہات بیان کی ہیں۔

اس کا خیال ہے کہ "طلاق کا جشن منانے کے رویے کو ایک رجحان نہیں سمجھا جاتا ہے۔ اس میں یہ رجحان بڑے علاقوں میں دہرایا جاتا ہے اور جب یہ بڑھتا ہے تو اس کا سماجی اثر پڑتا ہے۔"

تحقیقی مطالعات کے مطابق ادھم نے "العربیہ ڈاٹ نیٹ" کو بتایا کہ یہ امر حیران کن ہے کہ موسم گرما میں طلاق کے واقعات میں اضافہ دیکھنے میں آتا ہے۔

جبری شادی

سماجی محقق ثریا ابراہیم نے طلاق کی تعداد کے سرکاری اور غیر سرکاری اعداد وشمار کو خطرناک اشارہ قرار دیا۔

العربہ ڈاٹ نیٹ سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سوڈانی معاشرے میں طلاق کی سب سے اہم وجہ زندگی کے لیے ہم سفر کا ناقص انتخاب ہے۔ (زبردستی) شادی اب بھی وسیع پیمانے پر پھیلا رواج ہے۔

ثریا نے دوسری طرف کی وجوہات کی طرف توجہ مبذول کراتے ہوئے جوڑے کی رازداری اور اجتماعی رہائش کے مسائل کو بھی طلاق سے جوڑا۔

مگر ثریا طلاق کی بڑھتی شرح کو اقتصادی مسائل سے جوڑنے پر متفق نہیں ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ معاشی صورتحال تعلقات کی مضبوطی، اس کی نزاکت اور انتخاب سے جڑی ہوتی ہے۔ کچھ میاں بیوی میٹھے اور کڑوے دونوں برداشت کرتے ہیں اور کچھ کڑوی برداشت نہیں کر سکتے۔"

وہ طلاق کے جشن کو ایک مداخلت پسندانہ رویے اور "موبائل" کلچر کے نقصانات قرار دیتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ طلاق کی خوشی اور اس پر جشن صرف نفسیاتی پہلو سے خود کو تسلی دینے کی کوش ہے۔

ثریا نے سوڈانی خواتین پر زور دیا کہ وہ ذاتی حیثیت کے قانون کو تبدیل کرنے کے لیے مضبوطی سے کھڑے ہوں۔

العربیہ نیٹ کو موصول ہونے والی رپورٹ سے پتا چلتا ہے کہ سوڈان کے دارالحکومت خرطوم میں طلاق کی شرح ملک کے دوسرے شہروں کی نسبت زیادہ ہے۔

جب طلاق کے بارے میں علاحدہ ہونے والے جوڑوں سے بات کی جائے تو مردوں اور خواتین کی طرف سے الگ الگ وجوہات سامنے آتی ہیں۔

تین مردوں نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو انٹرویو دیتے ہوئے علاحدگی کو نارمل اور "زندگی کا سال" قرار دیا جب کہ خواتین کا کہنا تھا کہ طلاق نے انہیں متاثر کیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں