کرونا وائرس

یواے ای: کووِڈ-19 کے یومیہ کیسوں میں اضافہ؛عوام کواحتیاطی تدابیرکی پاسداری کی ہدایت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

متحدہ عرب امارات کی نیشنل ایمرجنسی کرائسیس اور ڈیزاسٹرمینجمنٹ اتھارٹی (این سیما) نے پیر کو الحوسن ایپ پرگرین اسٹیٹس نظام کی تازہ کاری کا اعلان کیا ہے۔اس کے تحت اب ملک بھر میں انفیکشن میں حالیہ اضافے کی روشنی میں منفی کووڈ-19 ٹیسٹ کے بعد ایپ پر’سبزدرجہ‘ 30 دن کے بجائے 14 دن کے لیے جائزہوگا۔

اتھارٹی کی جانب سے ٹیلی ویژن پر خصوصی بریفنگ میں کہا گیا ہے کہ احتیاطی اقدامات کے طور پر سبزحیثیت کے جواز کی مدت 30 دن سے کم کرکے 14 دن کی جارہی ہے۔اس فیصلے کا مقصد جانچ کے عمل کی درستی کو یقینی بنانا اوروقتاً فوقتاً مزید ٹیسٹوں کی حوصلہ افزائی کرنا ہے‘‘۔

یہ اپ ڈیٹ بدھ کو فعال کر دی جائے گی، ماسوائے شعبہ تعلیم کے ملازمین اور طلبہ کے، جو اگلے پیر 20 جون تک الحوسن ایپ پراپ ڈیٹ حاصل کر سکیں گے۔این سیما نے کہا کہ یہ اقدام ایسے وقت میں کیا جارہا ہے جب متحدہ عرب امارات میں کووِڈ-19 کے کیسوں میں ڈرامائی طور پراضافہ ہوا ہے۔گذشتہ ایک ہفتے سے بھی کم عرصے میں انفیکشن میں دُگنا سے زیادہ اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

یواے ای نے آج کرونا وائرس کے 1319 نئے کیسوں کا اندراج کیا ہے جو فروری کے بعد روزانہ ریکارڈ کیے جانے والے سب سے زیادہ کیس ہیں۔تاہم 24 گھنٹے کے دوران میں کوئی موت ریکارڈ نہیں کی گئی ہے۔

این سیما نے کہا کہ اس نے حال ہی میں ’’کچھ کرداری بے اعتدالیوں کی نگرانی کی ہے جو معاشرے اور صحت عامہ کے لیے خطرہ بن چکے ہیں۔ لوگ کووڈ-19 کے احتیاطی اور روک تھام کے اقدامات پرعمل نہیں کرتے۔ان کے اس کردار نے’’بحالی کی کوششوں‘‘پر’’منفی‘‘اثرڈالاہے۔

اتھارٹی کے ترجمان نے بریفنگ میں کہا کہ احتیاطی تدابیر پر عمل کرنے میں غفلت ، بے پروائی اور صحت عامہ کو برقراررکھنے اور استثنا حاصل کرنے میں سماجی کردار میں ناکامی کے نتیجے میں روزانہ کیسوں کی تعداد بڑھ رہی ہے اوروبا کی نئی لہرعود کر آئی ہے۔

اتھارٹی کا کہنا ہے کہ مطالعات سے ثابت ہوا ہے کہ ماسک پہننا صحت عامہ کے تحفظ کو برقرار رکھنے اورکووِڈ-19 کی انفیکشن کے خطرے سے بچاؤ میں سب سے اہم عوامل میں سے ایک ہے۔ماسک پہننے سے خاص طور پر بند اور پرہجوم مقامات پر بیماری کے پھیلاؤکی رفتارکو کم کیا جاسکتا ہے۔

اتھارٹی نے بند عوامی مقامات پر ماسک پہننے کی ضرورت کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ لازمی ہے اور اس قاعدے پرعمل نہ کرنے والوں پر816 ڈالر (3000 اماراتی درہم) تک جرمانہ عاید کیا جائے گا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں