آسٹریلیا کو ورلڈ کپ تک پہنچانے والا سوڈانی مہاجر ہیرو کیسے بنا؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

اویرمایبل آسٹریلیا کی فٹ بال ٹیم کے ایک سوڈانی نژاد کھلاڑی ہیں مگراس سوڈانی نژاد کھلاڑی نے آسٹریلیا کو ورلڈ کپ تک پہنچا دیا۔ اویرمابیل نے اس بات کی تصدیق کی کہ پیر کو آسٹریلیا کے لیے انہوں نے پیرو کے خلاف جو فیصلہ کن پنالٹی کِک اسکور کی۔ وہ میزبان ملک کا شکریہ تھا جس نے اسے اور اس کے خاندان کو گلے لگایا۔ وہ یاد کرتے ہیں ہم کینیا کے ایک پناہ گزین کیمپ میں تھے جب سنہ 2022 کے فیفا ورلڈ کپ کے لیے سفر شروع کیا۔

26 سالہ نوجوان نے دوحہ میں پیرو کے خلاف بین الاقوامی پلے آف میں آسٹریلیا کی چھٹی پنالٹی کک پر گول کیا۔ اس سے قبل متبادل گول کیپر اینڈریو ریڈمائن نے جنوبی امریکی ٹیم کے لیے آخری کک بچائی اور سوکروز کو لگاتار پانچویں بار فائنل کے لیے کوالیفائی کرادیا۔

"مجھے ریکارڈ بنانے کے لیے چنا گیا تھاا"

مایبل نے حیرانی کے ساتھ اپنی اس کامیابی کا جشن منایا اور بعد میں صحافیوں کو بتایا کہ اسے گول کرنے کے لیے چنا گیا تھا۔

دوسرے ہاف میں متبادل کے طور پر آنے والے ونگر نے مزید کہا کہ میں جانتا تھا کہ میں اسکور کرنے جا رہا ہوں۔ اپنے خاندان کی جانب سے آسٹریلیا کا شکریہ ادا کرنے کا یہ واحد طریقہ تھا۔ میں ایک جھونپڑی میں پیدا ہوا۔ ایک چھوٹی سی جھونپڑی میں۔ یہاں میرا ہوٹل کا کمرہ یقینی طور پر جھونپڑی سے بڑا ہے۔ وہ کمرہ جہاں میرا خاندان اور میں مہاجر کیمپ میں رہتا تھا‘‘۔

اس کے علاوہ انہوں نے مزید کہا کہ آسٹریلیا سے ہمارے استقبال اور ہماری آباد کاری نے مجھے، میرے بھائیوں اور میرے پورے خاندان کو زندگی میں ایک موقع فراہم کیا۔ میرا مطلب یہی ہے جب میں آسٹریلیا کا شکریہ ادا کرتا ہوں کیونکہ اس نے ہمیں پناہ دی ہے۔

اویر مابیل کے بھائی اویر پال نے ایڈیلیڈ ایڈورٹائزرز کو تصدیق کی کہ جو کچھ ہوا اس سے اس کا خاندان بہت متاثر ہوا۔ مہاجر کیمپ میں پیدا ہونے والا بچہ ہماری کمیونٹی کے لیے ایک بہت ہی دل کو چھو لینے والا لمحہ تھا۔ صرف اسے آسٹریلیا کی نمائندگی کرتے ہوئے پچ پر آتے دیکھ کر ہمیں اچھا لگتا ہے۔

مہاجر کیمپ میں پیدائش

سنہ 1995 میں کینیا کے ایک پناہ گزین کیمپ میں پیدا ہونے والے ام مایبل کے طور پر مشہور کھلاڑی کے والدین جنوبی سوڈان میں تنازعات سے فرار ہونے کے ایک سال بعد وہ کینیا پہنچے۔ اپنے ملک میں غربت کی وجہ سے وہ دن میں ایک بار ہی کھانا کھاتے اور وقت پاس کرنے کے لیے فٹ بال کو لاتیں مارتے رہتے۔

گیارہ سال کی عمر میں 2006 میں آسٹریلیا میں دوبارہ آباد ہونے کے بعد ان کی کارکردگی میں اضافہ ہوا جس کی وجہ سے وہ 2015 میں ڈنمارک کے Midtjylland جانے سے پہلے ایڈیلیڈ یونائیٹڈ میں نوعمری کھلاڑی کے طور پر شامل ہو گئے۔ وہ اس وقت ترکی کے قاسم پاشاکلب کے ساتھ کام کررہے ہیں۔

پھر وہ روس میں ہونے والے ورلڈ کپ کے مہینوں بعد 2018 میں پہلی بار پہلی ٹیم میں شامل ہوئے اور ایک ایسے کھلاڑی بن گئے جس پر موجودہ کوچ گراہم آرنلڈ انحصار کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مجھےامید ہے کہ آسڑیلیا میں دوسرے پناہ گزین بھی میزبان ملک میں اپنی تعمیری خدمات انجام دیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں