سعودی عرب جی 20 ممالک میں ساتویں بڑی مسابقتی معیشت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

سعودی عرب کوعالمی مسابقتی سالنامہ 2022 میں جی 20 ممالک میں ساتویں سب سے زیادہ مسابقتی معیشت قرار دیا گیا ہے۔اس عالمی مسابقتی سالنامے کے مطابق اس نے جاپان، بھارت اور فرانس جیسے بڑے ممالک کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔

سوئٹزرلینڈ میں قائم انٹرنیشنل انسٹی ٹیوٹ فار مینجمنٹ ڈویلپمنٹ (آئی ایم ڈی) یہ سالانہ عالمی مسابقتی کتاب شائع کرتا ہے۔اس میں معاشی بہبود اور ایگزیکٹوز کے سروے کے جوابات کی بنیاد پر دنیا کی 63 معیشتوں کا جائزہ لیا گیا ہے اور ان کی درجہ بندی کی گئی ہے۔

مملکت مجموعی طورپر سب سے زیادہ مسابقتی معیشتوں کی درجہ بندی میں چوبیسویں نمبر پرہے۔گذشتہ سال کے دوران میں اس نے جنوبی کوریا، فرانس، جاپان، اٹلی، ارجنٹائن، بھارت، ترکی، برازیل، میکسیکو اورانڈونیشیا کو پیچھے چھوڑدیا ہے اور آٹھ پوزیشن آگے بڑھی ہے۔

سعودی عرب معاشی کارکردگی کی فہرست میں 31 ویں نمبر پر ہے۔اس نے گذشتہ سال کے مقابلے میں سترہ نمبر پیش رفت کی ہے(گذشتہ سال یہ48 ویں نمبر پرتھا)۔مملکت حکومت کی کارکردگی میں 19 ویں نمبر پر ہے۔ (24 ویں نمبر سے ترقی)،کاروباری کارکردگی میں 26 ویں سے ترقی کرکے سولھویں نمبرپرآگئی ہے اور بنیادی ڈھانچے میں(36 ویں سے بڑھ کر) 34 ویں نمبرپر ہے۔

سعودی وزیرتجارت ڈاکٹرماجدالقصبی نے کہا کہ عالمی مسابقتی سالنامہ 2022 اوراسی طرح کے دیگرمعززعالمی معیارات میں ہماری مثبت کارکردگی ہماری مضبوط معاشی کارکردگی کی عکاسی کرتی ہے۔ہمارا یہ منظرنامہ وژن 2030 کے اصلاحات کے حوالے سے موثرمکمل حکومتی نقطہ نظر کا نتیجہ ہے جس سے مملکت کی عالمی مسابقت میں اضافہ ہوا ہے۔

انھوں نے کہا کہ ’’سعودی معیشت کی لچک اور کرونا وائرس کی وَبا سے بحالی کی رفتار نے مملکت کو دنیا کے تیزی سے ترقی کرنے والے ممالک میں سے ایک بنانے میں مدد دی ہے‘‘۔

مملکت نے بہت سے ذیلی اشاریوں میں دنیا کے سرفہرست 10 ممالک میں بھی درجہ حاصل کیا ہے۔ان میں سے کچھ اشاریے یہ تھے: حکومتی پالیسی کی مطابقت پذیری، کمپنیوں میں ڈیجیٹل تبدیلی، سرکاری مالیات، توانائی کا بنیادی ڈھانچا، سائبرسکیورٹی، تعلیم پر مجموعی سرکاری اخراجات، ڈیجیٹل مہارتیں اور قومی ثقافت سمیت کئی دیگرعوامل شامل ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں