بھارت:مشتعل نوجوانوں کا فوج میں ملازمت کی نئی اسکیم کے خلاف احتجاج،چارٹرینیں نذرآتش

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

بھارت میں مشتعل ہجوم نے جمعرات کو فوج میں بھرتی کی ایک نئی قلیل مدتی اسکیم کے خلاف احتجاجی ریلیوں کے دوران میں متعدد ٹرینوں کو آگ لگا دی اوران کی پولیس کے ساتھ جھڑپیں ہوئی ہیں۔

اسی ہفتے بھارت کی مرکزی حکومت نے نوجوان بالغوں کی چارسال کی مدت کے لیے مسلح افواج میں عارضی بھرتی کے منصوبے کا اعلان کیا ہے-یہ فوج میں بھرتی کے روایتی طریق کار کے برعکس ہے کیونکہ غیرکمیشنڈ رینکس کوتاحیات ملازمتیں دی جاتی ہیں اورانھیں پینشن اور دوسری مراعات حاصل ہوتی ہیں۔

اس نئے پروگرام کے تحت بھرتی ہونے والے افراد سرکاری پنشن سمیت موجودہ اہلکاروں کو حاصل مراعات اوردیگر استحقاق سے محروم رہیں گے جب کہ انھیں چار سالہ پروگرام کے بعد سبکدوش کردیا جائے گا۔

مشرقی ریاست بہار میں پولیس نے بے ہنگم ہجوم کو منتشر کرنے کے لیے اشک آورگیس کے گولے پھینکے۔انھوں نے چارٹرینوں سے سواریوں کو اتارا اور انھیں آگ لگادی۔انھوں نے سرکاری عمارتوں پر دھاوا بولنے کی کوشش کی۔

انڈیا احتجاج
انڈیا احتجاج

ریاستی دارالحکومت پٹنہ کے ایک سینیرافسر نے اے ایف پی کو بتایا کہ یہ مظاہرے ابتدائی طور پر پرامن تھے لیکن چند مقامات پر پرتشدد ہو گئے۔ بلوہ پولیس نے مظاہرین پر فائرنگ سے بچنے کے لیے احتیاط سے کام لیا۔ابھی تک کسی جانی نقصان یا کسی کے شدید زخمی ہونے کی اطلاع نہیں ملی۔

حکام نے مزید نقصان سے بچنے کی کوشش میں قریباً دو درجن مسافرٹرینیں منسوخ کردی ہیں اور ریلوے اسٹیشنوں پر اضافی پولیس تعینات کردی ہے۔

واضح رہے کہ ریاست بہارمیں بھارت میں بے روزگاری اورغربت کی شرح سب سے زیادہ ہے اور اس نے گذشتہ چند دہائیوں میں ملک کی تیزرفتار معاشی ترقی کے برعکس پیچھے رہ جانے والی ریاست کے طور پر شہرت حاصل کی ہے۔

بھارتی ریاست بہار کے شہر مونگیر میں فوج میں بھرتی کی نئی اسکیم کے خلاف نوجوان احتجاج کے طور پر ڈنٹرپیل رہے ہیں۔
بھارتی ریاست بہار کے شہر مونگیر میں فوج میں بھرتی کی نئی اسکیم کے خلاف نوجوان احتجاج کے طور پر ڈنٹرپیل رہے ہیں۔

جنوری میں بھی بہار میں سرکاری ملازمتوں کے مشتعل درخواست دہندگان کے ہجوم نے ٹرینوں کو آگ لگا دی تھی۔ ریلوے ٹریک بند کردیے تھے اور وزیراعظم نریندرمودی کے پتلے نذرآتش کیے تھے۔

انھوں نے دعویٰ کیا تھا کہ حکومت کے زیرانتظام ریل سیکٹر کے داخلہ امتحانات غیر منصفانہ طور پر منعقد کیے جارہے ہیں۔بے روزگاری طویل عرصے سے بھارتی معیشت کے گلے میں ہڈی بن چکی ہے۔ملک میں 1970 کی دہائی کے بعد سے بے روزگاری کے اعداد و شمار مقامی تجارت پراثرانداز ہونے سے پہلے ہی بدترین ہیں۔

مودی کی حکومت نے فوج میں بھرتی کے نئے منصوبے کو نوجوانوں کی مسلح افواج میں شمولیت کے مختصر طریق کے طور پر پیش کیاہے اورکہا ہے کہ لاکھوں نئی ملازمتیں بھی پیداکی ہیں۔

ریٹائرڈجنرل بیریندردھنوا نے اے ایف پی کوبتایا کہ بھارت کی مسلح افواج کی تعداد 14 لاکھ ہے اور یہ بہت زیادہ ہے۔اس لیے اسے اصلاحات کی ضرورت ہے لیکن انھوں نے سوال اٹھایا کہ کیا یہ اسکیم مناسب علاج ہے۔انھوں نے کہا کہ چارسال بہت تھوڑی مدت ہےاور یہ ایک طرح سے استحصال کی شکل ہے۔ہمیں اس بات کا جائزہ لینا ہوگا کہ آیا یہ مسلح افواج کے لیے بھی بہتر ہے۔

جمعرات کوبھارت بھر کے کئی دیگر شہروں میں بھی نئی فوجی اسکیم کے خلاف احتجاج دیکھنے میں آیا ہے دارالحکومت نئی دہلی کے نواح میں پولیس نے بھی ہجوم پر آنسوگیس کا استعمال کیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں