سعودی عرب اورامریکا کے درمیان تعلقات میں ’’بہت کچھ داؤ‘‘ پرلگا ہواہے:نامزدسفیر

امریکی ترجیحات سے ہم آہنگ سعودی عرب کی توانائی پالیسی کی حوصلہ افزائی میری بات چیت کا اہم موضوع ہوگی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

سعودی عرب میں امریکا کے نامزدسفیرمائیکل ریٹنی نے کہا ہے کہ توانائی کی فراہمی اورامریکی ترجیحات سے ہم آہنگ سعودی توانائی پالیسی کی حوصلہ افزائی الریاض حکومت کے ساتھ میری بات چیت کا محورہوگی۔

انھوں نے یہ بات سینیٹ کی خارجہ تعلقات کمیٹی کے روبرو بیان دیتے ہوئے کہی ہے۔امریکی سفیر کے طور پر تقرر کے نامزدکردہ امیدوار نے جمعرات کو کہا کہ ’’واشنگٹن اور الریاض کے درمیان تعلقات میں بہت کچھ داؤ پر لگا ہوا ہے‘‘۔

مائیکل ریٹنی نے کہا کہ وہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مضبوط اور پائیدار شراکت داری کے لیے پُرعزم ہیں۔توانائی کی سپلائی سعودی حکومت کے ساتھ ان کے مذاکرات کا مرکزی موضوع ہوگی۔

انھوں نے سینیٹ کی خارجہ تعلقات کمیٹی کے سامنے اپنی نامزدگی کی توثیق کے لیے سماعت کے موقع پرکہا کہ ’’امریکی ترجیحات سے ہم آہنگ سعودی عرب کی توانائی پالیسی کی حوصلہ افزائی میری بات چیت کا مرکزی موضوع ہوگی‘‘۔

مسٹر ریٹنی نےکہا کہ وہ سعودی عرب میں جدیدکاری کے منصوبے کی حوصلہ افزائی کریں گے اور انسداد دہشت گردی کے لیے تعاون پر زوردیں گے۔

انھوں نے یہ بھی کہا کہ وہ سعودی عرب کو اپنی علاقائی خودمختاری کے دفاع اور ایران کے ’’جارحانہ‘‘ طرزِعمل کو روکنے میں مدد دینے کی کوشش کریں گے۔یمن میں جنگ کا خاتمہ اور انسانی حقوق کی پاسداری کے لیے تعاون بھی ان کی ترجیحات ہوں گی۔

یمن میں ایران کے حمایت یافتہ حوثیوں نے گذشتہ سال سعودی عرب میں شہری اہداف پرسرحد پار سے ڈرون اور بیلسٹک میزائلوں سے 400 سے زیادہ حملے کیے تھے جس سے وہاں مقیم 70 ہزارامریکی شہری اور سعودی آبادی خطرے سے دوچار ہوگئی تھی۔

نامزد سفیر کا کہنا تھا کہ وہ سکیورٹی کے شعبے میں تعاون اور تربیت کے ذریعے سعودی دفاع کو مضبوط بنانے میں مدد کرنا چاہتے ہیں۔اس کے علاوہ وہ اپنے شراکت داروں اور اتحادیوں کے لیے امریکا کے پختہ عزم کا اعادہ کریں گے۔

ریٹنی کا کہنا تھا کہ ’’یمن کے حوثی گروپ کا بڑا حامی اور مددگار ایران امریکااورسعودی عرب کے مفادات کے لیے ایک بڑاخطرہ ہے۔ہمیں اپنے سعودی شراکت داروں کے ساتھ مل کرعالمی توانائی کے بہاؤ، علاقائی استحکام اور خطے میں اپنے ہم وطن امریکی شہریوں کی زندگیوں کو لاحق ایرانی خطرات کا مقابلہ کرنا چاہیے‘‘۔

انھوں نے یمن میں جنگ بندی تک پہنچنے میں مدد کرنے پر سعودی عرب کے کردار کی تعریف کی۔انھوں نے واضح کیا کہ سعودی عرب کی حمایت کے بغیر یہ جنگ بندی ممکن نہیں تھی اور وہ خود اس جنگ بندی کو پائیدار قرارداد میں تبدیل کرنا چاہیں گے۔

مائیکل ریٹنی اس وقت محکمہ خارجہ کے فارن سروس انسٹی ٹیوٹ (ایف ایس آئی) میں قائم مقام ڈپٹی ڈائریکٹر کے طور پرخدمات انجام دے رہے ہیں۔بائیڈن انتظامیہ نے انھیں کچھ روز قبل ہی الریاض میں نیا امریکی سفیرنامزدکیا ہے۔اپنے تقرر کی توثیق کے بعد توقع ہے کہ وہ آیندہ ماہ صدر بائیڈن کے سعودی عرب کے دورے سے قبل الریاض میں اپنی سفارتی ذمے داریاں سنبھال لیں گے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں