یونانی آرتھو ڈاکس چرچ ۔ ۔ ۔ اسرائیلی قبضے پر روسی تشویش

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

روس نے اسرائیل کی مقبوضہ یروشلم میں یونانی آرتھو ڈاکس مسیحیوں کے گرجا گھر کے خلاف اسرائیلی عدالت کے فیصلے پر گہری تشویش ظاہر کی۔ چند روز قبل اسرائیل کی سپریم کورٹ نے یہ قرار دیا تھا کہ یہودی آباد کاروں ںے گرجا گھر کی یہ زمین قانونی طریقے سے خرید لی تھی اس لئے اب یہ زمین گرجا گھر کی ملکیت میں نہیں رہی ہے۔ جبکہ گرجا گھر کی انتظامیہ کا موقف یہ سامنے آیا یے کہ گرجا گھر کی ملکیتی املاک کو غیر قانونی طریقے سے اسرائیلی قبضے میں لیا گیا ہے۔ ۔حتی کہ گرجا گھر کی انتظامیہ سے اس بارے میں پوچھا بھی نہیں گیا۔

اس صورت حال پر روسی وزارت خارجہ کی ترجمان ماریہ ذاکروف نے کہا "ہمیں مسیحی گرجا گھر کی زمین ہتھیانے پر گہری تشویش ہے"

ماریہ ذاکروف نے مزید کہا ہے کہ اس طرح کے فیصلے بین المذاہب امن کے خلاف ہیں۔ مسحیوں کی یہ تشویش بڑی جائز ہوگی کہ مسیحی کمیونٹی کا مقدس سرزمین پر مستقبل کیا ہوگا۔

روس اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی میں اس وقت سے اضافہ ہوگیا ہے جب روس نے یوکرین پر ماہ فروری میں حملہ کیا تھا اور اسرائیل نے اس کی مذمت کی تھی

ماہ اپریل میں روس نے اسرائیل سے مطالبہ کیا تھا کہ اسرائیل الیگزینڈر نیوسکی گرجا گھر کی ملکیت حوالے کر دے۔ جیسا کہ سابقہ اسرائیلی حکومت نے اس کی منتقلی کو منظور کر لیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں