ترکیہ میں منفرد خوشبو کے حامل سیاہ گلاب کی غیر معمولی پیداوار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

تُرکیہ کے جنوب مشرق میں واقع خلفتی خطے میں مخملی ساخت، گہرے سیاہ رنگ اور ایک ناقابل یقین منفرد مہک کے حامل گلاب کی غیر معمولی پیداوار نہ صرف مقامی بلکہ عالمی توجہ کا بھی مرکز ہے ۔یہ خطہ تیزبیت کی خصوصیات کی حامل مٹی کی بدولت خاص طور پر مشہور ہے۔

جب گلاب کی کلیوں پر سیاہ رنگ کا غلبہ ہوتا ہے،تو گلاب کا پھول مکمل ہو چکا ہوتا ہے۔ اس وقت اس کا رنگ شراب کے رنگ کی طرح ایک بھرپور سرخی مائل ہو جاتا ہے۔

ماہرین کے مطابق گلاب کا رنگ جسے ترک زبان میں "کاراگُل" کہا جاتا ہے گھنے کانٹوں والے پودے پر لگتا ہے۔ اسے کہیں اور محفوظ نہیں کیا جا سکتا۔

خلفتی کے رہائشی ’کاراگل‘ کو ایک برانڈ میں تبدیل کرنے کی خواہش رکھتے ہیں کیونکہ ترکیہ میں پھولوں کا شعبہ ایک فروغ پزیر کاروبار ہے۔

ملک کے مغرب میں واقع اسپرطا گورنری آج اس شعبے میں سب سے نمایاں کھلاڑی کا درجہ رکھتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسے "ترکیہ میں گلاب کا باغ" کہا جاتا ہے۔

ترکیہ، بلغاریہ کے ساتھ مل کر دُنیا میں پیدا ہونے والے کل گلاب کے تیل کا 80 فیصد پیدا کرتا ہے۔

لیکن میرے خلفتی میں رہنے والے 28 سالہ ڈیوریم ٹوٹس کا کہنا ہے کہ اس علاقے میں سیاہ گلاب تیزی سے پھیل رہا ہے۔

کالے گلاب کو فروغ دینے کے لیے ایک کاروباری منصوبہ تیار کرنے کے بعد وہ اس وقت استنبول کو گلاب کی پتیاں فراہم کر رہے ہیں جو ترکیہ کے عطر اور مٹھائی کی تیاری میں استعمال ہوتے ہیں۔

ٹوٹس کا کہنا ہے کہ اگرچہ ان پھولوں کی مانگ ان کی پیداواری صلاحیتوں سے زیادہ ہے مگر انہوں نے اپنا کام ترک نہیں کیا ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ "استنبول کے بازار اسپرطا کے گلابوں سے بھرے پڑے ہیں تو ان میں بھی کاراگل گلاب کیوں نہیں ہوگا؟"

گلاب بچاؤ مہم

ترکیہ میں صرف سیاہ گلاب ہمیشہ نہیں کھلتے تھے۔

ماضی میں، گلاب کے پھولوں کی دیکھ بھال کرنے والے ایک مقامی اہلکار کا کہنا ہے کہ رہائشی ان کے بارے میں لاتعلق تھے۔

اس کا دوست جس نے خود کوبلنٹ کے طور پر متعارف کراتا ہے کا کہنا ہے کہ تمام باغات میں سیاہ گلاب پھیلے ہوئے تھے اور کوئی ان کی طرف توجہ نہیں کرتا تھا۔

ایک مقامی اہلکارنےاپنا نام ظاہر کرنے کی شرط پر’اے ایف پی‘ کو بتایا "مقامی باشندے اس سیاہ گلاب کی اہمیت اورانفرادیت سے واقف نہیں تھے"۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم نے ان میں سے کئی کواونچے علاقوں میں منتقل کیا اور انہیں زرعی خیموں میں پیدا کرنا شروع کر دیا۔"

خلفاتی میں شہر کے ایگریکلچر ڈائریکٹوریٹ کے زیر انتظام ایک گرین ہاؤس قائم کیا گیا ہے جس میں ایک ہزار سیاہ گلاب شامل ہیں۔

اس صدی کے آغاز میں علاقے کے باشندے گلابوں کوبچانے کے لیے جمع ہوئے۔ جب فرات پرایک ڈیم سے علاقے میں سیلاب آگیا۔اس سے گلابوں کی فصل کے نقصان پہنچنے کا اندیشہ تھا۔ کیونکہ ایسا ماضی میں میسوپوٹیمیا میں شامل درجنوں آثار قدیمہ کے ساتھ ہوچکا تھا۔

سنہ 2000 میں برسک ڈیم کی تعمیر جنوب مشرقی ترکیہ میں ترقیاتی منصوبوں کے ایک گروپ کے حصے کے طور پر سامنے آئی جس نے بڑے پیمانے پر تنازعہ کو جنم دیا۔

ماہر نباتات علی ایکنچی کے مطابق اس وقت دنیا میں سیاہ گلاب کی بیس اقسام ہیں جن میں ترکیہ میں 16 اقسام شامل ہیں۔

اکینجی کا کہنا ہے کہ میرے خیال میں"کاراگل‘‘ پھولوں کی مقامی نسل نہیں ہے لیکن ماحول، آب و ہوا اور مٹی جو اس خطے کی خصوصیت رکھتی ہے اس پھول کی پیداوار کا سبب بنی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں