بھارت اور بنگلہ دیش میں سیلاب سے 50 افراد ہلاک، لاکھوں متاثر

دونوں ملکوں میں لوگوں کی مدد کے لیے مقامی انتظامیہ نے فوج طلب کر لی ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

بھارت اور بنگلہ دیش کے شمال مشرقی حصوں میں طوفانی بارشوں، سیلاب اور لینڈسلائیڈنگ نے تباہی مچا دی ہے۔ حکام کے مطابق رواں ہفتے کے دوران طوفانی بارشوں کے باعث حادثات میں بنگلہ دیش میں 25 اور بھارت میں بھی کم از کم 25 افراد زندگی کی بازی ہار چکے ہیں جب کہ لاکھوں افراد متاثر ہوئے ہیں۔

خبر رساں ادارے 'اے ایف پی' کے مطابق بنگلہ دیش میں پولیس حکام کا کہنا ہے کہ جمعہ کی دوپہر سے طوفان کے باعث آسمانی بجلی کڑکنے سے کم از کم 21 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ہلاک ہونے والوں میں تین بچے بھی شامل ہیں جن کی عمریں 12 سے 14 سال کے درمیان ہیں۔ پولیس انسپکٹر نور الاسلام نے بتایا کہ دیگر چار افراد چٹاگانگ میں لینڈ سلائیڈنگ کے باعث ہلاک ہوئے ہیں۔

گذشتہ ہفتے سے ہونے والی بارشوں کے باعث شمال مشرقی بنگلہ دیش کے کئی علاقے زیرِ آب ہیں جس کی وجہ سے اسکولوں کو امدادی پناہ گاہوں میں تبدیل کردیا گیا ہے۔ سلہٹ شہر کے اعلیٰ حکومتی ایڈمنسٹریٹر مشرف حسین نے 'اے ایف پی' کو بتایا کہ ہفتے کی صبح سیلابی صورتِ حال شدت اختیار کر گئی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ''صورتِ حال بہت بری ہے۔ چالیس لاکھ سے زائد افراد سیلابی پانی کے باعث پھنسے ہوئے ہیں۔'' ان کا کہنا تھا کہ تقریباً پورا علاقہ بجلی سے محروم ہے۔ سیلاب کے باعث سلہٹ میں بنگلہ دیش کے تیسرے بڑے ایئرپورٹ کو بھی جمعہ کو بند کر دیا گیا تھا۔

بنگلہ دیش کے شہر اگرتلہ کے نواح میں ایک کم سن بچی بھائی کو سیلاب سے نکال رہی ہے
بنگلہ دیش کے شہر اگرتلہ کے نواح میں ایک کم سن بچی بھائی کو سیلاب سے نکال رہی ہے

محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ بنگلہ دیش اور بھارت کے شمال مشرقی بالائی علاقوں میں شدید بارشوں کے باعث آئندہ دو دنوں میں سیلابی صورتِ حال مزید خراب ہونے کا امکان ہے۔واضح رہے کہ رواں ہفتے کی بارشوں سے قبل سلہٹ گزشتہ ماہ بھی شدید سیلاب سے متاثر ہوا تھا جسے تقریباً دو دہائیوں کا بدترین سیلاب قرار دیا گیا تھا۔ اس سیلاب کے باعث 10 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

دوسری جانب بھارت کی شمال مشرقی ریاست آسام میں بھی سیلابی صورتِ حال ہے۔ بھارت کی ریاست میگھالیہ میں بھی بارشوں، لینڈسلائیڈنگ اور دیگر واقعات سے کم از کم 16 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ ریاست کے وزیرِاعلیٰ کونراڈ سنگما نے ٹوئٹر پر ان ہلاکتوں کی تصدیق کی ہے۔

خبر رساں ادارے 'ایسوسی ایٹڈ پریس' نے رپورٹ کیا کہ بھارت کی ریاست آسام کی ڈیزاسٹر مینجمنٹ ایجنسی کے مطابق سیلاب کے باعث کم از کم نو افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ براہماپترا دریا کے حفاظتی بند ٹوٹنے سے آسام کے 33 میں سے 28 اضلاع میں تین ہزار گاؤں اور فصلیں زیرِ آب آ گئی ہیں۔

آسام کے دارالحکومت گوہاٹی کے محکمۂ موسمیات کے عہدیدار سنجے او نیل کا کہنا ہے کہ اتوار تک آسام کے مختلف حصوں میں معتدل سے شدید بارشوں کا امکان ہے۔ بارشوں کے باعث دونوں ممالک نے اپنی فوج کو سیلاب میں پھنسے افراد کی مدد کرنے کی ہدایت کی ہے۔ بنگلہ دیش کے نشیبی علاقوں میں موجود لاکھوں لوگ ہمیشہ سیلاب کے خطرے سے دوچار رہتے ہیں لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی سیلاب غیر متوقع اور شدید ہو رہے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں