بھارت: فوجی بھرتی کی نئی اسکیم کے خلاف احتجاج میں شدت، حکومت کا معمولی تبدیلی کااشارہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

بھارت کی مشرقی ریاست بہارمیں فوج میں بھرتی کی نئی اسکیم کے خلاف احتجاج کا سلسلہ جاری ہے۔مظاہرین نے ہفتے کے روزایک ریلوے اسٹیشن میں سرکاری املاک کو نقصان پہنچایا،دفاتر میں توڑ پھوڑ کی اور فوجی بھرتی کے نئے منصوبے پر غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے حکومت سے اس کو منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

وزیراعظم نریندرمودی کی حکومت نے اگنی پتھ یا ’’آگ کا راستہ‘‘ کے نام سے ایک اسکیم متعارف کرائی ہے۔اس کے تحت بھارت کی قریبا14 لاکھ کی مسلح افواج میں مکمل ملازمت کے بجائے چارسال کے لیے نوجوانوں کو بھرتی کیا جائے تاکہ نوجوان خون کو فوج میں شامل کیا جاسکے۔

بھارتی فوج کے لیفٹیننٹ جنرل انیل پوری نے این ڈی ٹی وی نیوزچینل کوبتایا کہ اس منصوبے کا مقصد فوج کو مزید جدیداورمؤثربنانا ہے۔

معاشی تجزیہ کاروں کا کہنا تھا کہ نئی اسکیم سے پنشن کے بڑھتے ہوئے اخراجات میں کمی میں مدد ملے گی۔تاہم مخالفین کا خیال ہے کہ اس سے دفاعی افواج میں مستقل ملازمتوں کے مواقع محدود ہو جائیں گے جس کے اثرات تن خواہوں، پنشن اوردیگرمراعات پرمرتب ہوں گے۔

ہزاروں مشتعل نوجوانوں نے ٹرین کے ڈبوں پرحملہ کیا۔ ٹائرجلائے اور بھارت کی غریب ترین ریاستوں میں سے ایک بہار کے ایک ریلوے اسٹیشن پراہلکاروں سے جھڑپیں کی ہیں۔

ریلوے حکام نے پُرتشدد احتجاجی مظاہروں کے پیش نظر ملک بھرمیں 369 ٹرینیں منسوخ کردی ہیں۔ان میں سے بہت سی ٹرینوں کا تعلق شورش زدہ ریاستوں کے درمیان چلتی ہیں۔ریاست بہار میں امن وامان کی نگرانی کرنے والے ایک سینیر پولیس افسرسنجے سنگھ نے بتایا کہ جھڑپوں کے بعد12 مظاہرین کو گرفتارکیا گیا ہے اورچار پولیس اہلکار زخمی ہوئے ہیں۔انھوں نے رائٹرز کو بتایا کہ قریباً 2000 سے 2500 افراد میسوری ریلوے اسٹیشن میں داخل ہوئے اور فورسز پر حملہ کیا۔

بھارت کی سب سے زیادہ آبادی والی ریاست اترپردیش میں پولیس نے کم سے کم 250 افراد کوگرفتار کیا ہے اور کہا ہے کہ انھیں حفظ ماتقدم کے طور پرگرفتار کیا گیا ہے۔کچھ مظاہرین نے پولیس پر ضرورت سے زیادہ طاقت استعمال کرنے کا الزام بھی عاید کیا ہے۔اس ہفتے ہونے والے مظاہروں میں ایک شخص ہلاک ہو گیا تھا۔

بہارمیں پولیس نے گذشتہ جمعرات کو بھی بے ہنگم ہجوم کو منتشر کرنے کے لیے اشک آورگیس کے گولے پھینکے تھے اور انھوں نے چارٹرینوں سے سواریوں کو اتارکر انھیں آگ لگادی تھی۔انھوں نے سرکاری عمارتوں پر دھاوا بولنے کی کوشش کی تھی۔

انسانی وسائل کی تبدیلی

فوج میں مختصرمدت کی عارضی بھرتی کے خلاف عوام کے اشتعال اورغیظ وغضب پر قابو پانے کے لیے وفاقی حکومت نے ہفتے کے روز ان لوگوں کے لیے بعض رعایتوں کا اعلان کیا ہے جو اس اسکیم کے تحت خدمات انجام دیں گے۔

وزارت داخلہ نے اعلان کیا کہ وہ نیم فوجی دستوں اور ہندوستانی فوج کے یونٹ آسام رائفلزمیں 10 فی صد خالی اسامیوں کوان لوگوں کے لیے مختص کرے گی جو اس اسکیم میں لازمی چارسال کی مدت کے بعد پوری کرکے فوج سے سبکدوش ہوں گے۔

وزارت دفاع نے کہا کہ وہ اس اسکیم کو مکمل کرنے والوں کے لیے اپنی دس فی صد خالی اسامیاں مختص کرے گی۔وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نےایک کانفرنس میں کہا کہ یہ ایک نئی اسکیم ہے،شاید اسی لیے لوگوں نے اسے غلط سمجھا ہے لیکن ہم سابق فوجیوں سمیت سب کے ساتھ اس پر بات چیت کر رہے ہیں۔

اس اسکیم میں چارسال کی ملازمت کے بعد بھرتی ہونے والے 25 فی صد فوجیوں کو برقراررکھنے کامطالبہ کیا گیا ہے جبکہ باقی کو ریاستی پولیس جیسی دیگر ملازمتوں کے لیے ترجیح دی جائے گی۔بھارتی بحریہ کے سربراہ نے بھی جمعہ کو کہا تھا کہ مظاہرے غیرمتوقع تھے اور شاید نئے نظام کے بارے میں غلط معلومات کا نتیجہ تھے۔ایڈمرل آر ہری کمار نے اے این آئی کو بتایا کہ ’’مجھے اس طرح کے کسی احتجاج کی توقع نہیں تھی۔ یہ انسانی وسائل کے انتظام میں اب تک کی سب سے بڑی تبدیلی ہے جو ہندوستانی فوج میں ہوئی ہے‘‘۔

فوج میں عارضی بھرتی کی یہ اسکیم خواتین کے لیے کھلی نہیں ہے اورنہ انھیں لڑاکا کرداروں کے لیے بھرتی کیا جائے گا۔حکومت کا اس کو تبدیل کرنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں