سعودی سیاحتی شہر "العلا" کا قدرتی ریزرو یونیسکو سے منسلک

غزال اور چیتوں کا گھر سمجھا جانے والا یہ ریزرو جازان کے ساحل سے متصل ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

سعودی سیاحتی شہر العلا کے رائل کمیشن نے اعلان کیا ہے "حرۃ عویرض نیچر ریزرو" کو یونیسکو کے تحت دنیا بھر میں کام کرنے والے تحفظ حیات کے عالمی نیٹ ورک "انسان اور حیاتیاتی ماحول" کا رکن بنا لیا گیا ہے۔ اقوام متحدہ کے اس ثقافتی ادارے کے ساتھ منسلک ہونے والا یہ سعودی عرب کا قدرتی و جنگلی حیات کا سب بڑا ریزرو ہے۔

عرب دنیا میں پائے جانے والے چیتے اور غزال کی سخت خطرے سے دوچار نسل کے لیے العلا کا یہ نیچرل ریزرو ایک طرح سے گھر کی حیثیت رکھتا ہے۔ تقریبا پچاس ہزار سعودی دیہاتی اس علاقے میں قدرتی چراگاہوں اور کھیتی باڑی سے جڑے ہوئے ہیں۔

"مین اینڈ بائیو سفئیر" نامی ادارہ سائنسی بنیادوں پر مقامی لوگوں اور قدرتی ماحول کے درمیان تعلق کو جدید سائنسی بنیادیں فراہم کر تے ہوئے ماحول دوست بناتا ہے۔ العلا شہر سے جڑا حرۃ عویرض ریزرو کا علاقہ قدرتی حسن اور قدرتی حیات کے حوالے سے ایک منفرد اور خوبصورت جگہ ہے۔ رائل کمشن کی طرف سے اس ریزرو کے یونیسکو کے ساتھ منسلک ہونے کو قابل فخر قرار دیا گیا ہے۔ ریزرو کو گزشتہ سال اس مقصد کے لیے چنا گیا تھا۔

یہ ریزرو مملکت سعودیہ کے پانچ بڑے قدرتی ریزروز میں سے سب سے بڑا ہے۔ اس میں 19 قسم کے ناپید ہوتے جا رہے جنگلی جانور پائے جاتے ہیں۔ جبکہ اس میں پائے جانے والے درختوں کی 55 اقسام پائی جاتی ہیں۔ اسی طرح 43 انواع کے رنگ برنگے پرندے پائے جاتے ہیں۔ یہ جازان کے ساحل سے متصل ہے 380 مربع کلو میٹر پر پھیلا ہوا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں