کابل میں سکھوں کے گردوارے پر حملہ، ہلاکتوں پر پاکستان کا اظہار تشویش

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

افغانستان کے دارالحکومت میں سکھوں کی عبادت گاہ گردوارے میں دھماکے کے بعد مسلح افراد نے اندر گھس گئے جن کے ساتھ طالبان اہلکاروں کی گھمسان کی جنگ ہوئی۔

کابل سے العربیہ کے نمانئدے نے بتایا کہ دارالحکومت کے گردوارے میں زور دار دھماکا ہوا ہے، دھماکا اس وقت ہوا جب وہاں 30 سے زائد سکھ یاتری موجود تھے۔ دھماکے کے بعد درجن بھر مسلح افراد نے گردوارے میں داخل ہوکر 30 سے زائد افراد کو یرغمال بنا لیا۔

گردوارے کے ایک دروازے سے 3 سکھ یاتری کسی طرح نکلنے میں کامیاب ہو گئے جن میں سے دو زخمی ہیں۔ زخمیوں کو اسپتال منتقل کردیا گیا ہے جب کہ دھماکے میں گردوارے کی حفاظت پر مامور طالبان محافظ جاں بحق ہو گیا اور ایک سکھ یاتری کی ہلاکت کی بھی اطلاع ہے۔

ادھر بھارتی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ دھماکے میں ہلاک ہونے والا سکھ یاتری 60 سالہ سویندر سنگھ ہے جس کا خاندان دہلی میں آباد ہے تاہم وہ خود غزنی میں مقیم ہے جب کہ طالبان محافظ کی شناخت احمد کے نام سے ہوئی ہے۔

سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ گردوارے کی عمارت سے سیاح دھواں نکل رہا ہے اور طالبان اہلکار نے گردوارے کو محاصرے میں لیا ہوا ہے۔

تاحال کسی گروپ نے حملے کہ ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔ طالبان نے گردوارے میں دھماکے اور حملے کی تصدیق کی ہے تاہم ہلاکتوں سے متعلق کوئی بیان جاری نہیں کیا ہے۔

پاکستان کا اظہار تشویش

پاکستان نے افغانستان کے دارالحکومت کابل میں گردوارہ پر دہشت گردانہ حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کو افغانستان میں عبادت گاہوں پر حالیہ حملوں کے سلسلے پر شدید تشویش ہے، مذہبی مقامات کو نشانہ بنانے والی یہ کاررائیاں نفرت انگیز ہیں۔

سنیچر کے روز دفتر خارجہ سے جاری بیان میں کہا گیا کہ پاکستان کابل میں سکھوں کے گوردوارے پر ہونے والے دہشت گردانہ حملے کی شدید مذمت کرتا ہے جس کے نتیجے میں قیمتی انسانی جانیں ضائع ہوئیں اور متعدد افراد زخمی ہوئے جبکہ املاک کو نقصان پہنچا۔

ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ پاکستان کو افغانستان میں عبادت گاہوں پر دہشت گردانہ حملوں کے حالیہ سلسلے پر شدید تشویش ہے۔گزشتہ روز دہشت گردوں نے قندوز میں امام صاحب مسجد کو نشانہ بنایا،جس میں متعدد نمازی شہید اور زخمی ہوئے۔

مذہبی مقامات کو نشانہ بنانے والی دہشت گردی کی یہ کارروائیاں سراسر نفرت انگیز ہیں۔پاکستان ہر قسم کی دہشت گردی کی مذمت کا اعادہ کرتا ہے،ہم افغانستان کے عوام کے ساتھ بھرپور یکجہتی کا اظہار کرتے ہیں اور دہشت گردی کی لعنت سے لڑنے اور اپنے تمام شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے افغان حکام کی تمام کوششوں کی حمایت کرتے ہیں۔

حملے کی اطلاع ملنے پر طالبان اہلکار گردوارے پہنچ گئے اور محاصرہ کر لیا۔ گردوارے میں موجود مسلح افراد اور طالبان اہلکاروں کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ تادیر جاری رہا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں