افغانستان : داعش نے گوردوارے پر حملے کی ذمہ داری قبول کر لی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

داعش نے افغان دارالحکومت کابل میں سکھوں کے گوردوارے پر ہونے والے حملے کی ذمہ داری قبول کر لی ہے۔ داعش کے گورداورے پر اس حملے کے نتیجے میں سکھ کمیونٹی سے تعلق رکھنے والا ایک شخص ہلاک ہونے کے علاوہ طالبان کا ایک سکیورٹی اہلکار بھی جاں بحق ہو گیا ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ داعش نے اس حملے کو بھارت میں بی جے پی کے انتہا پسند ہندو رہنماوں کی طرف سے توہین رسالت کے دو الگ الگ حالیہ واقعات کا رد عمل قرار دیا ہے ، تاہم داعش نے نشانہ بھارتی اقلیت سکھوں کے گوردوارے کو کابل میں بنایا ہے۔

واضح رہے ماہ مئی کے اواخر میں بھارتی حکمران جماعت بی جے پی کی ترجمان نوپورشرما اور نوین جندال نامی رہنما نے توہین رسالت کا ارتکاب کیا تھا۔ اس پر بھارت سمیت پوری دنیا میں مسلمانوں نے احتجاج کیا تھا۔ بھارت میں یہ احتجاج اس کے باوجود جاری ہے کہ بھارتی حکومت کے ماتحت اداروں نے اس احتجاج کے رہنماوں میں سے کئی کے گھروں کو مسمار کرنا شروع کر دیا ہے۔

داعش کی طرف سے جاری کر دہ بیان میں کہا گیا ہے کہ اس نے ''ہفتے کے روز کابل میں ہندووں ، سکھوں اور مرتدین کو نشانہ بنانے کے لیے یہ حملہ کیا گیا ۔ اس مقصد کے لیے داعش نے صبح سویرے گوردوارے کو نشانہ بنانے کی پلاننگ کی ۔ اس کا ایک جنگجو گوردوارے کے محافظ کو ہلاک کرنے کے بعد گوردوارے کے اندر تک چلا گیا تھا۔ ''

'' اندر داخل ہونے کے بعد دااعش جنگجو نے موجود لوگوں کو ہینڈ گرینڈ اور مشین گن کے ساتھ نشانہ بنایا۔ اس دوران کم از کم دو افراد کو موقع پر مار دیا جبکہ دیگر زخمی ہو گئے۔'' دوسری جانب افغان وزارت داخلہ کے ترجمان عبد النافع کے مطابق حملہ آور نے کم از کم ایک ہینڈ گرینیڈ پھینکا جس سے آگ بھڑک اٹھی۔ ''
اس حملے کے بعد ایک بھارتی ودد نے گورداورے کا دورہ کیا تاکہ انسانی بنیادوں پرتقسیم ہونے والی امداد کا جائزہ لیا جا سکے ، اس بھارتی وفد نے طالبان حکام سے بھی ملاقات کی ۔ واضح رہے پچھلے سال پندرہ اگست سے جب سے طالبان افغانستان پر قابض ہونے ہیں تب سے اب تک اس نوعیت کی دہشت گردی کے کئی واقعات ہو چکے ہیں۔ اس واقعے کی بھی داعش نے ذمہ داری قبول کر لی ہے

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں