روس اور یوکرین

یوکرین کی جنگ کئی برسوں تک پھیل سکتی ہے: نیٹو سربراہ کا انتباہ

توانائی اور خوراک کی قیمتوں سے زیادہ بھاری قیمت روسی کامیابی ہوگی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

نیٹو سربراہ جینز سٹولٹن برگ نے خبر دار کیا ہے کہ یوکرین کی جنگ اگلے کئی برسوں تک جاری رہ سکتی ہے۔ اتوار کے روز جرمنی کے ایک روزنامہ میں شائع ہونےوالے ایک انٹرویو میں نیٹو سربراہ نے یوکرین کی مدد کرنے پر زور دیتے ہوئے کہا ''ہمیں اس جنگ کا اگلے کئی سال تک سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ اس لیے ہمیں تیار رہنا ہوگا۔''

نیٹو سیکرٹری جنرل نے کہا '' نیٹو کو یوکرین کے لیے اپنی امداد کو کبھی کمزور نہیں ہونے دینا چاہیے، بے شک اس کی بہت بھاری قیمت ادا کرنا پڑے۔'' انہوں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا ''یہ بھاری قیمت توانائی کے حوالے سے بھی ہو سکتی ہے اور غذائی اجناس کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کی صورت میں بھی ہو سکتی ہے۔''

سیکرٹری جنرل نیٹو نے کہا '' یوکرین کے حوالے سے توانائی بحران اور مہنگائی کو برداشت کرنا بڑی قیمت نہیں ہے۔ اگر روسی صدر ولادی میر پیوتن نے یوکرین کے بارے میں اپنے اہداف حاصل کر لیے تو یہ بہت بھاری قیمت ہو گی جو ناقابل برداشت ہوگی۔''

جینز سٹولٹن برگ نے نیٹو کے ممبر ممالک پر زور دیا کہ وہ یوکرین کے لیے اسلحے کی فراہمی جاری رکھیں۔ انہوں نے گذشتہ ہفتے بھی نیٹو ممالک سے یوکرین کی روس کے خلاف جنگ کے لیے زیادہ سے زیادہ مدد پر زور دیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں